یا ؔ بہت ہی تھوڑے عرصہ کے لئے اور پھر آسمان پر جبرائیل چڑھ جاتا ہے اور ان کو خالی چھوڑ دیتا ہے بلکہ بسا اوقات چالیس چالیس روز بلکہ اِس سے بھی زیادہ روح القدس یا یوں کہو کہ جبرائیل کی ملاقات سے انبیاء محروم رہتے ہیں مگر دوسرا قرین جو شیطان ہے وہ تو نعوذ باللہ اُن کا ساتھ ایک دم بھی نہیں چھوڑتا گو آخر کو مسلمان ہی ہو جائے۔
تو اِس کا جواب یہ ہے کہ یہ لوگ محجوب اورحقائق قرآن کریم سے غافل اور بے نصیب ہیں اورکُھلے طور پر اِن کا یہ عقیدہ بھی نہیں بلکہ نادانی اور قلّت تدبّر اور پھر اِس عاجز کے ساتھ بخل اور کینہ ورزی کی وجہ سے اِس بلا میں پڑ گئے ہیں کیونکہ اِس عاجز کے مقابل پر جن راہوں پر یہ لوگ چلے اُن راہوں میں یہ آفات موجود تھیں اِس لئے نادانستہ اُن میں پھنس گئے جیسا کہ ایک پرندہ نادانستہ کسی دانہ کی طمع سے ایک جال میں پھنس جاتا ہے ۔ بات یہ ہے کہ جب اِن لوگوں نے
اپنے حافظہ میں رکھ لینی چاہیئے کہ مقربوں کا روح القدس کی تاثیر سے علیحدہ ہونا ایک دم کے لئے بھی ممکن نہیں کیونکہ اُن کی نئی زندگی کی روح یہی روح القدس ہے پھر وہ اپنی روح سے کیونکر علیحدہ ہو سکتے ہیں۔ اور جس علیحدگی کا ذکر احادیث اور بعض اشارات قرآن کریم میں پایا جاتا ہے اُس سے مراد صرف ایک قسم کی تجلّی ہے کہ بعض اوقات بوجہ مصالح الٰہی اُس قسم کی تجلّی میں کبھی دیر ہو گئی ہے اور اصطلاح قرآنِ کریم میں اکثر نزول سے مراد وہی تجلّی ہے ورنہ ذرہ سوچنا چاہیئے کہ جس آفتابِ صداقت کے حق میں یہ آیت ہے
33 ۱یعنی اُس کا کوئی نطق اور کوئی کلمہ اپنے نفس اور ہَوا کی طرف سے نہیں وہ تو سراسر وحی ہے جو اُس کے دل پر نازل
النجم: ۴،
بطالوی اور دہلوی کا یہ عقیدہ ہے کہ انبیاء بھی اکثر صحبت روح القدس سے محروم رہتے ہیں مگر دوسرا قرین اور لوگوں کی طرح ہر وقت ان کے ساتھ بھی رہتا ہے گو اُن پر قابو نہیں پاتا مگر کہتے ہیں کہ عیسیٰ کے ساتھ کوئی شیطان نہیں تھا اور روح القدس تو اس کے ساتھ ہی آیا اور ساتھ ہی آسمان پر گیا۔
نزول ملایک سے مرادایک قسم کی تجلی ہے جس کا صریح اثر ملہموں کے دلوں پر پڑتا ہے اور بسا اوقات ملایک اس تجلی کے وقت متمثل ہو کر نظر بھی آ جاتے ہیں اور اگر اس تجلی میں دیر ہو جائے تو کہا جاتا ہے کہ نزول میں دیر ہو گئی ہے روح القد س کے دائمی قرب کی مثال ایسی ہے کہ جیسے آگ پتھر میں ہمیشہ ہوتی ہے اور اسکی تجلی یہ ہے کہ کسی ضرب سے اس میں چنگیاری پیدا ہو جائے۔