کہؔ حال کے اکثر مُلّا جیسے شیخ بطالوی محمد حسین اور شیخ دہلوی نذیر حسین اِس اعتقاد کے مخالف ہیں اوراِس بات کے وہ ہرگز قائل نہیں ہیں کہ ہر یک انسان کو دو قرین دیے گئے ہیں ایک داعی الی الخیر جو روح القدس ہے اور ایک داعی الی الشرّ جو شیطان ہے بلکہ اُن کا تو یہ قول ہے کہ صرف ایک ہی قرین دیا گیا ہے جو داعی الی الشر ہے اور انسان کی ایمانی بیخ کنیکے لئے ہر وقت اُس کے ساتھ رہتا ہے اور خدا تعالیٰ کو یہ بات بہت پیاری معلوم ہوئی کہ انسان کا شیطان کو دن رات کا مصاحب بنا کر اور انسان کے خون اور رگ و ریشہ میں شیطان کو دخل بخش کر بہت جلد انسان کو تباہی میں ڈال دیوے اور جبرائیل جس کا دوسرا نام رُوح القدس بھی ہے ہرگز عام انسانوں کے لئے بلکہ اولیاء کے لئے بھی داعی الی الخیر مقرر نہیں کیا۔ وہ سب لوگ صرف شیطان کے پنجہ میں چھوڑے گئے ہاں انبیاء پرروح القدس نازل ہوتا ہے مگر وہ بھی صرف ایک دم کہ ایک قدم کی جگہ بھی آسمان پر خالی نظر آوے مگر افسوس کہ بطالوی صاحب اور دہلوی شیخ صاحب بھی اب تک اس زمانہ میں بھی کہ علوم حسیہ طبعیہ کا فروغ ہے یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ آسمان کا صرف باندازہ ایک قدم خالی رہنا کیا مشکل بات ہے بعض اوقات تو بڑے بڑے فرشتوں کے نزول سے ہزارہا کوس تک آسمان خالی ویران سنسان پڑا رہ جاتا ہے جس میں ایک فرشتہ بھی نہیں ہوتا کیونکہ جب چھ سو ۶۰۰ موتیوں کے پروں والا فرشتہ جس کا طول مشرق سے مغرب تک ہے یعنی جبرائیل زمین پر اپنا سارا وجود لے کر اُتر آیا تو پھر سوچنا چاہیئے کہ ایسے جسیم فرشتہ کے اُترنے سے ہزارہا کوس تک آسمان خالی رہ جائے گا یا اس سے کم ہو گا شیخ الکل کہلانا اور احادیث نبویہ کو نہ سمجھنا جائے افسوس اور جائے شرم ۔ الغرض جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں یہ بات نہایت احتیاط سے شیخ بطالوی اور دہلوی کا یہی مذہب ہے کہ انسان کے لئے دائمی قرین صرف شیطان کو مقرر کیا گیا ہے اور روح القدس کی دائمی صحبت سے اور لوگ تو کیا چیز نعوذ باللہ انبیاء بھی بے بہرہ ہیں بجز حضرت عیسیٰ کے۔ بطالوی اور دہلوی کا یہی مذہب ہے کہ کبھی آسمان فرشتوں سے خالی بھی رہ جاتے ہیں بالخصوص لیلۃ القدر کی رات میں تو آسمان ایسا ہوتا ہے کہ جیسے اُجڑا ہوا گھر کیونکہ تمام فرشتے اور روح القدس زمین پر اتر آتے ہیں اور صبح تک زمین پر ہی رہتے ہی