بلکہؔ نہایت صفائی سے نظر آجاتا ہے افسوس ان لوگوں کی حالت پر جو فلسفہ باطلہ کی ظلمت سے متاثر ہو کر ملایک اور شیاطین کے وجود سے انکار کر بیٹھے ہیں اور بینات اور نصوص صریحہ قرآن کریم سے انکار کردیا اور نادانی سے بھرے ہوئے الحاد کے گڑھے میں گر پڑے۔ اور اس جگہ واضح رہے کہ یہ مسئلہ ان مسائل میں سے ہے جن کے اثبات کے لئے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے استنباط حقائق میں اس عاجز کو متفرد کیا ہے۔ فالحمد للہ علی ذالک۔اور اگر کوئی آریہ یا عیسائی اس جگہ یہ اعتراض کرے کے یہ معنے ہرگز نہیں ہیں کہ کوئی فرشتہ آسمان سے اپنا مقام اور مقرّ چھوڑ کر زمین پر نازل ہوجاتا ہے ایسے معنے تو صریح نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے مخالف ہیں چنانچہ فتح البیان میں ابن جریر سے بروایت عائشہ رضی اللہ عنہا یہ حدیث مروی ہے۔ قالت قال رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلم ما فی السماء موضع قدم الا علیہ ملک ساجدٌ او قائم و ذالک قول الملائکۃ و ما منا الا لہ مقام معلوم۔ یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسمان پر ایک قدم کی بھی ایسی جگہ خالی نہیں جس میں کوئی فرشتہ ساجد یا قائم نہ ہو اور یہی معنے اس آیت کے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک شخص ایک مقام معلوم یعنے ثابت شدہ رکھتا ہے جس سے ایک قدم اوپر یا نیچے نہیں آسکتا۔ اب دیکھو اس حدیث سے صاف طور پر ثابت ہوگیا کہ فرشتے اپنے مقامات کو نہیں چھوڑتے اور کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوتا ملایک اور شیاطین کے وجود کا ثبوت ان نادر تحقیقاتوں میں سے ہے جن کے ساتھ بذریعہ افاضات قرآنیہ یہ عاجزمتفرد اور خاص کیا گیا ہے احادیث صحیحہ نبویہ سے ثابت ہے کہ فرشتے آسمان سے علیحدہ نہیں ہوتے کیونکہ علیحدہ ہونا اِس بات کو مستلزم ہے کہ آسمان کی وہ جگہ جو اُن کے وجود سے بھری ہوئی تھی خالی ہو جائے اور یہ امر ناشدنی ہے۔