دلؔ کو دکھلاویں اگرچہ عارف ان کو دیکھ بھی لیتے ہیں اور کشفی مشاہدات سے وہ دونوں نظر بھی آ جاتی ہیں مگر محجوب کیلئے جو ابھی نہ شیطان کو دیکھ سکتا ہے نہ روح القدس کو یہ ثبوت کافی ہے کیونکہ متاثر کے وجود سے موثر کا وجود ثابت ہوتا ہے اور اگر یہ قاعدہ صحیح نہیں ہے تو پھر خدا تعالیٰ کے وجود کا بھی کیونکر پتہ لگ سکتا ہے کیا کوئی دکھلا سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کہاں ہے صرف متأثرات کی طرف دیکھ کر جو اس کی قدرت کے نمونے ہیں اس موثر حقیقی کی ضرورت تسلیم کی گئی ہے۔ ہاں عارف اپنے انتہائی مقام پر روحانی آنکھوں سے اس کو دیکھتے ہیں اور اس کی باتوں کو بھی سنتے ہیں مگر محجوب کیلئے بجز اس کے اور استدلال کا طریق کیا ہے کہ متاثرات کو دیکھ کر اس موثر حقیقی کے وجود پر ایمان لاوے سو اسی طریق سے روح القدس اور شیاطین کا وجود ثابت ہوتا ہے اور نہ صرف ثابت ہوتا ہے جسمانی اور روحانی کا علم ہوتا۔ تا بجائے اعتراض کرنے کے کمالات تعلیم قرآنی کے قائل ہوجاتے کہ کیسی قانون قدرت کی صحیح اور سچی تصویر اس میں موجود ہے۔ از انجملہ ایک یہ اعتراض ہے کہ قرآن کریم کے بعض اشارات اور ایسا ہی بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض ایام میں جبرائیل کے اترنے میں کسی قدر توقف بھی وقوع میں آئی ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایام بعثت میں یہ بھی اتفاق ہوا ہے کہ بعض اوقات کئی دن تک جبرائیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل نہیں ہوا۔ اگر حضرت جبرائیل ہمیشہ اور ہر وقت قرین دائمی آنحضرت صلعم تھے اور روح القدس کا اثر ہمیشہ کیلئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود پر جاری و ساری تھا تو پھر توقف نزول کے کیا معنی ہیں اما الجواب پس واضح ہو کہ ایسا خیال کرنا کہ روح القدس کبھی انبیاء کو خالی چھوڑ کر آسمان پر چڑھ جاتا ہے صرف ایک دھوکہ ہے کہ جو بوجہ غلط فہمی نزول اور صعود کے معنوں کے دلوں میں متمکن ہوگیا ہے۔ پوشیدہ نہ رہے کہ نزول اگر روح القدس ہمیشہ انبیا کے ساتھ رہتا ہے تو پھر ان آیات اور احادیث کے کیا معنے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات کئی دنوں تک جبرائیل ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل نہیں ہوا۔