یقینی ؔ طورپر ہم پر کھول دیا کہ وہ مُمِدّات اور معاونات خارج میں موجود ہیں گو انکی کنہ اور کیفیت ہم کو معلوم ہویا نہ مگر یہ یقینی طور پر معلوم ہے کہ وہ نہ براہِ راست خداتعالیٰ ہے اور نہ ہماری ہی قوتیں اور ہمارے ہی ملکے ہیں بلکہ وہ ان دونوں قسموں سے الگ ایسی مخلوق چیزیں ہیں جو ایک مستقل وجود اپنا رکھتی ہیں اور جب ہم ان میں سے کسی کانام داعی الی الخیر رکھیں گے تو اسی کو ہم روح القدس یا جبرائیل کہیں گے اور جب ہم ان میں سے کسی کا نام داعی الی الشر رکھیں گے تو اسی کو ہم شیطان اور ابلیس کے نام سے بھی موسوم کریں گے۔ یہ تو ضرور نہیں کہ ہم روح القدس یا شیطان ہریک تاریک اور تناسب ہے یہ بھی پسند کیا کہ انسان کی روحانی تربیت بھی اسی نظام اور طریق سے ہو کہ جو جسم کی تربیت میں اختیار کیا گیا تا وہ دونوں نظام ظاہری و باطنی اور روحانی اور جسمانی اپنے تناسب اور یک رنگی کی وجہ سے صانع واحد مدبّر بالارادہ پر دلالت کریں۔ پس یہی وجہ ہے کہ انسان کی روحانی تربیت بلکہ جسمانی تربیت کیلئے بھی فرشتے وسائط مقرر کئے گئے مگر یہ تمام وسائط خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں مجبور اور ایک کَل کی طرح ہیں جس کو اس کا پاک ہاتھ چلا رہا ہے اپنی طرف سے نہ کوئی ارادہ رکھتے ہیں نہ کوئی تصرف۔ جس طرح ہوا خدا تعالیٰ کے حکم سے ہمارے اندر چلی جاتی ہے اور اسی کے حکم سے باہر آتی ہے اور اسی کے حکم سے تاثیر کرتی ہے یہی صورت اور بتمامہ یہی حال فرشتوں کا ہے33۔پنڈت دیانند نے جو فرشتوں کے اس نظام پر اعتراض کیا ہے کاش پنڈت صاحب کو خدا تعالیٰ کے نظام پنڈت دیانند اور آریوں کی یہ غلطہ فہمی ہے کہ قرآنی تعلیم میں یہ نقص ہے کہ بلا ثبوت ایک شیطان فرض کر کے اُسی کو انسان کا بہکانے والا قرار دیا ہے