مگرؔ اُس کا یہ انتظام ہرگز نہیں ہے کہ وہ بلا توسّط ہمارے قویٰ اور اجسام پر اثر ڈالتا ہے بلکہ جہاں تک ہم نظر اٹھا کر دیکھتے ہیں اور جس قدر ہم اپنے فکر اور ذہن اور سوچ سے کام لیتے ہیں صریح اور صاف اور بد یہی طور پر ہمیں نظر آتا ہے کہ ہریک فیضان کیلئے ہم میں اور ہمارے خدا وند کریم میں علل متوسّطہ ہیں جن کے توسّط سے ہریک قوت اپنی حاجت کے موافق فیضان پاتی ہے پس اسی دلیل سے ملائک اور جِنّات کا وجود بھی ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ ہم نے صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ خیر اور شر کے اکتساب میں صرف ہمارے ہی قویٰ کافی نہیں بلکہ خارجی مُمِدّات اور معاونات کی ضرورت ہے جو خارق عادت اثر رکھتے ہوں مگر وہ مُمِدّ اور معاون خدا تعالیٰ براہ راست اور بلا توسط نہیں بلکہ بتوسط بعض اسباب ہے سو قانونِ قدرت کے ملاحظہ نے قطعی اور
نہ طبعی نہ طبابت نہ علم نباتات یہ اسباب ہی ہیں جن سے علم پیدا ہوئے۔ تم سو چ کر دیکھو کہ اگر فرشتوں سے خدمت لینے سے کچھ اعتراض ہے تو وہی اعتراض۔ سورج اور چاند اور کواکب اور نباتات اور جمادات اور عناصر سے خدمت لینے میں پیدا ہوتا ہے۔ جو شخص معرفت کا کچھ حصہ رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ ہریک ذرہ خدا تعالیٰ کے ارادہ کے موافق کام کررہا ہے اور ایک قطرہ پانی کا جو ہمارے اندر جاتا ہے وہ بھی بغیر اذنِ الٰہی کے کوئی تاثیر موافق یا مخالف ہمارے بدن پر ڈال نہیں سکتا پس تمام ذرات اور سیارات وغیرہ درحقیقت ایک قسم کے فرشتے ہیں جو دن رات خدمت میں مشغول ہیں کوئی انسان کے جسم کی خدمت میں مشغول ہے اور کوئی روح کی خدمت میں اور جس حکیم مطلق نے انسان کی جسمانی تربیت کیلئے بہت سے اسباب کا توسط پسند کیا اور اپنی طرف سے بہت سے جسمانی مؤثرات پیدا کئے تا انسان کے جسم پر انواع اقسام کے طریقوں سے تاثیر ڈالیں۔ اسی وحدہ‘ لاشریک نے جس کے کاموں میں وحدت
ملایک اور جنّات کے وجود کا ثبوت