میںؔ موجود رکھتے ہیں لیکن یہ تو نہیں کہ ہمارے قویٰ ایسے مستقل اور کامل طور پر اپنی بناوٹ رکھتے ہیں کہ ان کو خارجی معینات اور معاونات کی کچھ بھی ضرورت اور حاجت نہیں ہم کبھی نہیں دیکھتے کہ کوئی ہماری جسمانی قوت صرف اپنے ملکہ موجودہ سے کام چلا سکے اور خارجی ممدومعاون کی محتاج نہ ہو۔ مثلاً اگرچہ ہماری آنکھیں کیسی ہی تیز بین ہوں مگر پھر بھی ہم آفتاب کی روشنی کے محتاج ہیں اور ہمارے کان کیسے ہی شنوا ہوں مگر پھر بھی ہم اس ہوا کے حاجت مند ہیں جو آواز کو اپنے اندر لپیٹ کر ہمارے کانوں تک پہنچا دیتی ہے اس سے ثابت ہے کہ صرف ہمارے قویٰ ہماری انسانیت کی کَل چلانے کیلئے کافی نہیں ہیں۔ ضرور ہمیں خارجی مُمِدّوں اور معاونوں کی حاجت ہے مگر قانون قدرت ہمیں بتلا رہا ہے کہ وہ خارجی ممدو معاون اگرچہ بلحاظ علّت العلل ہونے کے خدائے تعالیٰ ہی ہے تعریف کے لائق ٹھہر جاتا ہے اور اپنے رب کو راضی کر لیتا ہے۔ لیکن جو شخص انتہائی مقام کو پہنچ گیا ہے اُس میں مخالفانہ جذبات نہیں رہتے گویا اُس کا جنّ مسلمان ہو جاتا ہے مگر ثواب باقی رہ جاتا ہے کیونکہ وہ ابتلا کے منازل کو بڑی مردانگی کے ساتھ طے کر چکا ہے جیسے ایک صالح آدمی جس نے بڑے بڑے نیک کام اپنی جوانی میں کئے ہیں اپنی پیرانہ سالی میں بھی اُن کا ثواب پاتا ہے۔ از انجملہ ایک یہ اعتراض ہے کہ خدا تعالیٰ کو فرشتوں سے کام لینے کی کیا حاجت ہے کیا اس کی بادشاہی بھی انسانی سلطنتوں کی طرح عملہ کی محتاج ہے اور اس کو بھی فوجوں کی حاجت تھی جیسے انسان کو حاجت ہے۔ اماالجواب پس واضح ہو کہ خدا تعالیٰ کو کسی چیز کی حاجت نہیں نہ فرشتوں کی نہ آفتاب کی نہ ماہتاب کی نہ ستاروں کی لیکن اسی طرح اس نے چاہا کہ تا اس کی قدرتیں اسباب کے توسط سے ظاہر ہوں اور تا اس طرز سے انسانوں میں حکمت اور علم پھیلے۔ اگر اسباب کا توسط درمیان نہ ہوتا تو نہ دنیا میں علم ہیئت ہوتا نہ نجوم اس بات کا جواب کہ خدا تعالیٰ کو انسانوں کی طرح اسباب یعنی ملائک وغیرہ کی کیا ضرورت ہے