و قویٰؔ واجسام کو اس ذات مبدء فیض سے فائدہ پہنچتا ہے وہ بعض اور چیزوں کے توسّط سے پہنچتا ہے مثلاً اگرچہ ہماری آنکھوں کو وہی روشنی بخشتا ہے مگر وہ روشنی آفتاب کے توسط سے ہم کو ملتی ہے اور ایسا ہی رات کی ظلمت جو ہمارے نفوس کو آرام پہنچاتی ہے اور ہم نفس کے حقوق اس میں ادا کر لیتے ہیں وہ بھی درحقیقت اسی کی طرف سے ہوتی ہے کیونکہ درحقیقت ہریک پیدا شوندہ کی علّت العلل وہی ہے۔ پھر جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ ایک بندھا ہوا قانون قدیم سے ہمارے افاضہ کے لئے چلا آتاہے کہ ہم کسی دوسرے کے توسّط سے ہریک فیض خدا تعالیٰ کا پاتے ہیں ہاں اس فیض کے قبول کرنے کیلئے اپنے اندر قویٰ بھی رکھتے ہیں جیسے ہماری آنکھ روشنی کے قبول کرنے کیلئے ایک قسم کی روشنی اپنے اندر رکھتی ہے اور ہمارے کان بھی ان اصوات کے قبول کرنے کیلئے جو ہوا پہنچاتی ہے ایک قسم کی حِس اپنے اعصاب ہنسیں گے اور طنز سے کہیں گے کہ اے نادان کب اور کس وقت تجھ میں یہ قوت موجود تھی تا اس کے روکنے پر تو فخر کرسکتا یا کسی ثو اب کی امید رکھتا۔ پس جاننا چاہئے کہ سالک کو اپنے ابتدائی اور درمیانی حالات میں تمام امیدیں ثواب کی مخالفانہ جذبات سے پیدا ہوتی ہیں اور ان منازل سلوک میں جن امور میں فطرت ہی سالک کی ایسی واقع ہو کہ اس قسم کی بدی وہ کر ہی نہیں سکتا تو اس قسم کے ثواب کا بھی وہ مستحق نہیں ہوسکتا۔ مثلاً ہم بچھو اور سانپ کی طرح اپنے وجود میں ایک ایسی زہر نہیں رکھتے جس کے ذریعہ سے ہم کسی کو اس قسم کی ایذا پہنچا سکیں جو کہ سانپ اور بچھو پہنچاتے ہیں۔ سو ہم اس قسم کی ترک بدی میں عند اللہ کسی ثواب کے مستحق بھی نہیں۔ اب اس تحقیق سے ظاہر ہوا کہ مخالفانہ جذبات جو انسان میں پیدا ہو کر انسان کو بدی کی طرف کھینچتے ہیں درحقیقت وہی انسان کے ثواب کا بھی موجب ہیں کیونکہ جب وہ خدا تعالیٰ سے ڈر کر ان مخالفانہ جذبات کو چھوڑ دیتا ہے تو عنداللہ بلاشبہ ثواب کی تمام امیدیں مخالفانہ جذبات سے پیدا ہوتی ہیں