کونؔ نہیں جانتا کہ روح القدس کا نزول نورانیت کا باعث اور اس کا جدا ہو جانا ظلمت اور تاریکی اور بدخیالی اور تفرقہ ایمان کا موجب ہوتا ہے خدا تعالیٰ اسلام کو ایسے مسلمانوں کے شر سے بچاوے جو کلمہ گو کہلا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی حملہ کررہے ہیں۔ عیسائی لوگ تو حواریوں کی نسبت بھی یہ اعتقاد نہیں رکھتے کہ کبھی ان سے روح القدس جدا ہوتا تھا بلکہ ان کا تو یہ عقیدہ ہے کہ وہ لوگ روح القدس کا فیض دوسروں کو بھی دیتے تھے۔ لیکن یہ لوگ مسلمان کہلا کر اور مولوی اور محدّث اور شیخ الکل نام رکھا کر پھر جناب ختم المرسلین خیر الاوّلین والآخرین کی شان میں ایسی ایسی بدگمانی کرتے ہیں اور اس قدر سخت بد زبانی کر کے پھر خاصے مسلمان کے مسلمان اور دوسرے لوگ ان کی نظر میں کافر ہیں۔
اور اگر یہ سوال ہو کہ قرآن کریم میں اس بات کی کہاں تشریح یا اشارہ ہے کہ روح القدس مقرّبوں میں ہمیشہ رہتا ہے اور ان سے جدا نہیں ہوتا تو اس کا یہ جواب ہے کہ سارا قرآن کریم ان تصریحات اور اشارات سے بھرا پڑا ہے بلکہ وہ ہریک مومن کو روح القدس ملنے کا وعدہ دیتا ہے چنانچہ منجملہ ان آیات کے جو اس بارہ میں کھلے کھلے بیان سے ناطق ہیں۔ سورۃ الطارق کی پہلی دو آیتیں ہیں اور وہ یہ ہیں33* ۱
ان آیات کا ترجمہ یہ ہے کہ قسم ہے آسمان کی اور اس کی جو رات کو آنے والا ہے اور تجھے کیا خبر ہے کہ رات کو آنے والی کیا چیز ہے؟ وہ ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ اور قسم اس بات کیلئے ہے کہ ایک بھی ایسا جی نہیں کہ جو اس پر نگہبان نہ ہو یعنی ہر یک نفس پر نفوس مخلوقات میں سے ایک فرشتہ موکل ہے جو اس کی نگہبانی کرتا ہے اور ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا ہے۔
اس بات کا آیات اور احادیث سے ثبوت کہ
روح القدس مقربوں میں ہمیشہ رہتا ہے
۱ الطارق:۲۔