رُوحؔ القدس کے جدا ہونے سے پھر اُن برگزیدوں کو ظلمت گھیر لیتی ہے اور نعوذ باللہ
نعم القرین کی جدائی کی وجہ سے بئس القرین کا اثر اُن میں شروع ہوجاتا ہے اب ذرہ
خوف الٰہی کو اپنے دل میں جگہ دے کر سوچنا چاہئے کہ کیا یہی ادب اور یہی ایمان اور عرفان ہے
اور یہی محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم
ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اِس نقص اور تنزل کی حالت کو روا رکھا جائے کہ گویا روح القدس آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم سے مدّتوں تک علیحدہ ہوجاتا تھا اور نعوذ باللہ ان مدتوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انوار قدسیہ سے جو روح القدس کا پر توہ ہے محروم ہوتے تھے غضب کی بات ہے کہ عیسائی لوگ تو حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت یقینی اور قطعی طور پر یہ اعتقاد رکھیں* کہ روح القدس جب سے حضرت مسیح پر نازل ہوا کبھی ان سے جدا نہیں ہوا اور وہ ہمیشہ اور ہر دم روح القدس سے تائید یافتہ تھے یہاں تک کہ خواب میں بھی ان سے روح القدس جدا نہیں ہوتا تھا اور ان کا روح القدس کبھی آسمان پر ان کو اکیلا اور مہجور چھوڑ کر نہیں گیا اور نہ روح القدس کی روشنی ایک دم کیلئے بھی کبھی ان سے جدا ہوئی لیکن مسلمانوں کا یہ اعتقاد ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روح القدس آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا بھی ہوجاتا تھا اور اپنے دشمنوں کے سامنے بصراحت تمام یہ اقرار کریں کہ رُوح القدس کی دائمی رفاقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عیسیٰ کی طرح نصیب نہیں ہوئی۔
اب سوچو کہ اس سے زیادہ تر اور کیا بے ادبی اور گستاخی ہوگی کہ آنحضرت صلعم کی صریح توہین کی جاتی ہے اور عیسائیوں کو اعتراض کرنے کیلئے موقع دیا جاتا ہے اِس بات کو
* نوٹ۔ حضرت مسیح کی نسبت مسلمانوں کا بھی یہی اعتقاد ہے دیکھو تفسیر ابن جریر و ابن کثیر و معالم و فتح البیان و کشاف و تفسیر کبیر و حسینی وغیرہ بموقعہ تفسیر آیت 3 ۱ افسوس افسوس افسوس۔ منہ
آنحضرت صلعم کی نسبت یہ اعتقاد رکھنا کہ آپ سے اکثر اوقات
روح القدس جدا ہو جاتا تھا نہایت درجہ کی توہین ہے
البقرۃ: