۔۱؂ یہ آخری آیت یعنی اِنْ کُلُّ نَفْسٍ لَمَّا عَلَیْھَا حَافِظٌ جس کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک نفس پر ایک فرشتہ نگہبان ہے یہ صاف دلالت کر رہی ہے کہ جیسا کہ انسان کے ظاہر وجود کیلئے فرشتہ مقرر ہے جو اُس سے جدا نہیں ہوتا ویسا ہی اس کے باطن کی حفاظت کیلئے بھی مقرر ہے جو باطن کو شیطان سے روکتا ہے اور گمراہی کی ظلمت سے بچاتا ہے اور وہ رُوح القدس ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص بندوں پر شیطان کا تسلّط ہونے نہیں دیتا اور اسی کی طرف یہ آیت بھی اشارہ کرتی ہے کہ 3۔۲؂ اب دیکھو کہ یہ آیت کیسے صریح طور پر بتلا رہی ہے کہ خدا تعالیٰ کا فرشتہ انسان کی حفاظت کیلئے ہمیشہ اور ہر دم اس کے ساتھ رہتا ہے اور ایک دم بھی اس سے جدا نہیں ہوتا۔ کیا اس جگہ یہ خیال آسکتا ہے کہ انسان کے ظاہر کی نگہبانی کیلئے تو دائمی طور پر فرشتہ مقرر ہے لیکن اس کی باطن کی نگہبانی کیلئے کوئی فرشتہ دائمی طور پر خدا تعالیٰ نے جو اس آیت کو کلی طور پر یعنی کُلْ کے لفظ سے مقید کر کے بیان فرمایا ہے اس سے یہ بات بخوبی ثابت ہوگئی کہ ہریک چیز جس پر نفس کا نام اطلاق پاسکتا ہے اس کی فرشتے حفاظت کرتے ہیں پس بموجب اس آیت کے نفوس کواکب کی نسبت بھی یہ عقیدہ رکھنا پڑا کہ کل ستارے کیا سورج کیا چاند کیا زحل کیا مشتری ملائک کی زیر حفاظت ہیں یعنی ہریک کیلئے سورج اور چاند وغیرہ میں سے ایک ایک فرشتہ مقرر ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے کاموں کو احسن طور پر چلاتا ہے۔* اس جگہ کئی اعتراض پیدا ہوتے ہیں جن کا دفع کرنا ہمارے ذمہ ہے۔ از انجملہ ایک یہ کہ جس حالت میں روح القدس صرف ان مقربوں کو ملتا ہے کہ جو بقا اور لقا کے *نوٹ۔ اس مضمون کی تائید یہ آیت بھی کرتی ہے 33 ۳؂ چونکہ رجم کی خدمت فرشتے کرتے ہیں نہ کہ ستارے لہٰذا اسی سے قطعی طور پر ثابت ہوا کہ ہریک ستارے پر ایک فرشتہ مؤکل ہے اور چونکہ فرشتے ستاروں کے لئے بوجہ شدت تعلق جان کی طرح ہیں اس لئے آیت میں فرشتوں کا فعل ستاروں کی طرف منسوب کیا گیا ۔ فتدبّر۔ منہ ہر یک ستارہ پر اُس کی بقا اور اُس کے افعال صادر ہونے کے لئے ایک فرشتہ مقرر ہے ۱؂ الطارق:۴۔۵ ۲؂ الحجر:۴۳ ۳؂ الملک: