کوؔ دخل نہیں بلکہ وہ محبت صافیہ جو فنا کی حالت میں خدا وند کریم و جلیل سے پیدا ہوتی ہے الٰہی محبت کا خود بخود اُس پر ایک نمایاں شعلہ پڑتا ہے جس کو مرتبہ بقا اور لقا سے تعبیر کرتے ہیں اور جب محبتِ الٰہی بندہ کی محبت پر نازل ہوتی ہے تب دونوں محبتوں کے ملنے سے روح القدس کا ایک روشن اور کامل سایہ انسان کے دل میں پیدا ہوجاتا ہے اور لقا کے مرتبہ پر اس روح القدس کی روشنی نہایت ہی نمایاں ہوتی ہے اور اقتداری خوارق جن کا ابھی ہم ذکر کر آئے ہیں اسی وجہ سے ایسے لوگوں سے صادر ہوتے ہیں کہ یہ روح القدس کی روشنی ہر وقت اور ہر حال میں ان کے شامل حال ہوتی ہے اور اُن کے اندر سکونت رکھتی ہے اور وہ اُس روشنی سے کبھی اور کسی حال میں جدا نہیں ہوتے اور نہ وہ روشنی ان سے جدا ہوتی ہے۔ وہ روشنی ہر دم اُن کے تنفّس کے ساتھ نکلتی ہے اور اُن کی نظر کے ساتھ ہریک چیز پر پڑتی ہے۔ اور اُن کی کلام کے ساتھ اپنی نورانیت لوگوں کو دکھلاتی ہے اسی روشنی کا نام رُوح القدس ہے مگر یہ حقیقی رُوح القدس نہیں حقیقی روح القدس وہ ہے جو آسمان پر ہے یہ روح القدس اُس کا ظلّ ہے جو پاک سینوں اور دلوں اور دماغوں میں ہمیشہ کیلئے آباد ہوجاتا ہے اور ایک طرفۃ العین کیلئے بھی اُن سے جدا نہیں ہوتا اور جو شخص تجویز کرتا ہے کہ یہ روح القدس کسی وقت اپنی تمام تاثیرات کے ساتھ ان سے جدا ہو جاتا ہے وہ شخص سراسر باطل پر ہے اور اپنے ُ پر ظلمت خیال سے خدا تعالیٰ کے مقدس برگزیدوں کی توہین کرتا ہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ حقیقی روح القدس تو اپنے مقام پر ہی رہتا ہے لیکن روح القدس کا سایہ جس کا نام مجازً ا روح القدس ہی رکھا جاتا ہے اُن سینوں اور دلوں اور دماغوں اور تمام اعضا میں داخل ہوتا ہے جو مرتبہ بقا اور لقا کا پاکر اس لائق ٹھہر جاتے ہیں کہ اُن کی نہایت اصفٰی اور اجلٰی محبت پر روح القدس کا روشن اور کامل سایہ دو محبتوں کے ملنے سے لقا کی حالت میں پیدا ہوتا ہے اس بات کا سبب کہ اقتداری معجزات اور نشان کیوں صادر ہوتے ہیں وہ لوگ باطل پر ہیں کہ جو روح القدس کا ولیوں اور نبیوں سے کسی وقت الگ ہو جانا عقیدہ رکھتے ہیں