چکا ؔ ہو اور ایسی ایک زبردست کشش سے کھینچا گیا ہو جو نہیں جانتا کہ اسے کیا ہوگیا اور نورانیت کا بشدت اپنے اندر انتشار پاوے جیسا کہ دن چڑھا ہوا ہوتا ہے اور صدق اور محبت اور وفا کی نہریں بڑے زور سے چلتی ہوئی اپنے اندر مشاہدہ کرے اور لمحہ بہ لمحہ ایسا احساس کرتا ہو کہ
گویا خدا تعالیٰ اُس کے قلب پر اُترا ہوا ہے۔
جب یہ حالت اپنی تمام علامتوں کے ساتھ محسوس ہو تب خوشی کرو اور محبوب حقیقی کا شکر بجا لاؤ کہ یہی وہ انتہائی مقام ہے جس کا نام لقا رکھا گیا ہے۔
اِس آخری مقام میں انسان ایسا احساس کرتا ہے کہ گویا بہت سے پاک پانیوں سے اُس کو دھو کر اور نفسانیت کا بکلّی رگ و ریشہ اس سے الگ کر کے نئے سرے اُس کو پیدا کیا گیا اور پھر ربّ العالمین کا تخت اس کے اندر بچھایا گیا اور خدائے پاک و قدوس کا چمکتا ہوا چہرہ اپنے تمام دلکش حسن و جمال کے ساتھ ہمیشہ کیلئے اُس کے سامنے موجود ہو گیا ہے مگر ساتھ اس کے یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ دونوں آخری درجہ بقا اور لقا کے کسبی نہیں ہیں بلکہ وہبی ہیں اور کسب اور جدوجہد کی حد صرف فنا کے درجہ تک ہے اور اسی حد تک تمام راست باز سالکوں کا سیر و سلوک ختم ہوتا ہے اور دائرہ کمالات انسانیہ کا اپنے استدارت تامہ کو پہنچتا ہے اور جب اس درجہ فنا کو پاک باطن لوگ جیسا کہ چاہئے طے کرچکتے ہیں تو عادت الہٰیہ اسی طرح پر جاری ہے کہ بیک دفعہ عنایت الٰہی کی نسیم چل کر بقا اور لقا کے درجہ تک اُنہیں پہنچا دیتی ہے۔
اب اِس تحقیق سے ظاہر ہے کہ اس سفر کی تمام صعوبتیں اور مشقتیں فنا کی حد تک ہی ہیں اور پھر اس سے آگے گذر کر انسان کی سعی اور کوشش اور مشقت اور محنت
مرد سالک کا سلوک صرف فنا کی حد تک ہے