خداؔ تعالیٰ کی کامل محبت اپنی برکات کے ساتھ نازل ہو۔ اور جب وہ روح القدس نازل ہوتا ہے تو اس انسان کے وجود سے ایسا تعلق پکڑ جاتا ہے کہ جیسے جان کا تعلق جسم سے ہوتا ہے وہ قوت بینائی بن کر آنکھوں میں کام دیتا ہے اور قوت شنوائی کا جامہ پہن کر کانوں کو روحانی حس بخشتا ہے وہ زبان کی گویائی اور دل کے تقویٰ اور دماغ کی ہشیاری بن جاتا ہے اور ہاتھوں میں بھی سرایت کرتا ہے اور پیروں میں بھی اپنا اثر پہنچاتا ہے۔ غرض تمام ظلمت کو وجود میں سے اُٹھا دیتا ہے اور سر کے بالوں سے لے کر پیروں کے ناخنوں تک منور کردیتا ہے اور اگر ایک طرفۃ العین کیلئے بھی علیحدہ ہو جائے تو فی الفور اس کی جگہ ظلمت آجاتی ہے مگر وہ کاملوں کو ایسا نعم القرین عطا کیا گیا ہے کہ ایک دم کیلئے بھی ان سے علیحدہ نہیں ہوتا اور یہ گمان کرنا کہ اُن سے علیحدہ بھی ہو جاتا ہے یہ دوسرے لفظوں میں اس بات کا اقرار ہے کہ وہ بعد اس کے جو روشنی میں آگئے پھر تاریکی میں پڑ جاتے ہیں اور بعد اس کے جو معصوم یا محفوظ کئے گئے پھر نفس امّارہ اُن کی طرف عود کرتا ہے اور بعد اس کے جو روحانی حواس اُن پر کھولے گئے پھر وہ تمام حواس بے کار اور معطل کئے جاتے ہیں۔ سو اَے وے لوگو جو اس صداقت سے منکر اور اس نکتہ معرفت سے انکاری ہو مجھ سے جلدی مت کرو اور اپنے ہی نورِ قلب سے گواہی طلب کرو کہ کیا یہ امر واقعی ہے کہ برگزیدوں کی روشنی کسی وقت بتمام و کمال ان سے دور بھی ہو جاتی ہے۔ کیا یہ درست ہے؟ کہ وہ تمام نورانی نشان کامل مومنوں سے کمال ایمان کی حالت میں کبھی گم بھی ہوجاتے ہیں۔
اگر یہ کہو کہ ہم نے کب اور کس وقت کہا ہے کہ برگزیدوں کی روحانی روشنی کبھی سب کی سب دور بھی ہوجاتی ہے اور سراسر ظلمت ان پر احاطہ کر لیتی ہے تو اس کا
روح القدس کا نور کاملوں میں ہمیشہ رہتا ہے اور اُن کی تمام قوتوں میں سرایت کرتا ہے