ان ؔ افعال سے کم رتبہ پر رہے گا جو خود خدا تعالیٰ علانیہ اور بالجہر اپنی قوّت کاملہ سے ظہور میں لاتا ہے یعنی ایسا اقتداری معجزہ بہ نسبت دوسرے الٰہی کاموں کے جو بلاواسطہ اللہ جلّ شانہٗ سے ظہور میں آتے ہیں ضرور کچھ نقص اور کمزوری اپنے اندر موجود رکھتا ہوگا تا سرسری نگاہ والوں کی نظر میں تشابہ فی الخلق واقع نہ ہو۔ اسی وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا باوجود اس کے کئی دفعہ سانپ بنا لیکن آخر عصا کا عصا ہی رہا۔ اور حضرت مسیح کی چڑیاں باوجودیکہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز قرآن کریم سے ثابت ہے مگر پھر بھی مٹی کے مٹی ہی تھے اور کہیں خدا تعالیٰ نے یہ نہ فرمایا کہ وہ زندہ بھی ہو گئیں اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقتداری خوارق میں چونکہ طاقت الٰہی سب سے زیادہ بھری ہوئی تھی کیونکہ وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تجلّیاتِ الٰہیہ کیلئے اتمّ واعلیٰ وارفع و اکمل نمونہ تھا اس لئے ہماری نظریں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقتداری خوارق کو کسی درجہ بشریت پر مقرر کرنے سے قاصر ہیں مگر تاہم ہمارا اس پر ایمان ہے کہ اس جگہ بھی اللہ جلّ شانہٗ اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل میں مخفی طور پر کچھ فرق ضرور ہوگا۔ اب ان تحریرات سے ہماری غرض اس قدر ہے کہ لقا کا مرتبہ جب کسی انسان کو میسر آتا ہے تو اس مرتبہ کے تموّج کے اوقات میں الٰہی کام ضرور اس سے صادر ہوتے ہیں اور ایسے شخص کی گہری صحبت میں جو شخص ایک حصہ عمر کا بسر کرے تو ضرور کچھ نہ کچھ یہ اقتداری خوارق مشاہدہ کرے گا کیونکہ اس تموّج کی حالت میں کچھ الٰہی صفات کا رنگ ظلی طور پر انسان میں آجاتا ہے یہاں تک کہ اس کا رحم خدا تعالیٰ کا رحم اور اس کا غضب خدا تعالیٰ کا غضب ہوجاتا ہے اور بسااوقات وہ بغیر کسی دعا کے کہتا ہے کہ فلاں چیز پیدا ہوجائے تو وہ پیدا ہوجاتی ہے اور کسی پر غضب کی نظر سے دیکھتا ہے تو اس پر کوئی القا کے مرتبہ پر اقتداری نشان اہل اللہ سے صادر ہوتے ہیں اقتداری معجزہ خداتعالیٰ کے بلا توسط کاموں سے کم درجہ پر رہتا ہے