مگرؔ زیادہ تر افسوس اُن عیسائیوں پر ہے جو بعض خوارق اِسی کے مشابہ مگر اِن سے ادنیٰ حضرت مسیح میں سن سنا کر ان کی الوہیت کی دلیل ٹھہرا بیٹھے ہیں- اور کہتے ہیں کہ حضرت مسیح کا مُردوں کا زندہ کرنا اور مفلوجوں اور مجذوموں کا اچھا کرنا اپنے اقتدار سے تھا کسی دعا سے نہیں تھا۔ اور یہ دلیل اس بات پر ہے کہ وہ حقیقی طور پر ابن اللہ بلکہ خدا تھا۔ لیکن افسوس کہ ان بیچاروں کو خبر نہیں کہ اگر انہیں باتوں سے انسان خدا بن جاتا ہے تو اس خدائی کا زیادہ تر استحقاق ہمارے سید و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے کیونکہ اس قسم کے اقتداری خوارق جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھلائے ہیں حضرت مسیح علیہ السلام ہرگز دکھلا نہیں سکے اور ہمارے ہادی و مقتدا صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اقتداری خوارق نہ صرف آپ ہی دکھلائے بلکہ ان خوارق کا ایک لمبا سلسلہ روز قیامت تک اپنی امت میں چھوڑ دیا جو ہمیشہ اور ہر زمانہ میں حسب ضرورت زمانہ ظہور میں آتا رہا ہے اور اس دنیا کے آخری دنوں تک اسی طرح ظاہر ہوتا رہے گا اور الٰہی طاقت کا پر توہ جس قدر اس امت کی مقدّس رُوحوں پر پڑا ہے اس کی نظیر دوسری امتوں میں ملنی مشکل ہے پھر کس قدر بے وقوفی ہے کہ ان خارق عادت امور کی وجہ سے کسی کو خدایا خدا کا بیٹا قرار دیا جائے اگر ایسے ہی خوارق سے انسان خدا بن سکتا ہے تو پھر خداؤں کا کچھ انتہا بھی ہے؟
لیکن یہ بات اس جگہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اس قسم کے اقتداری خوارق گو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ہوتے ہیں مگر پھر بھی خدا تعالیٰ کے ان خاص افعال سے جو بلا توسط ارادہ غیرے ظہور میں آتے ہیں کسی طور سے برابری نہیں کر سکتے اور نہ برابر ہونا ان کا مناسب ہے اسی وجہ سے جب کوئی نبی یا ولی اقتداری طور پر بغیر توسط کسی دعا کے کوئی ایسا امر خارق عادت دکھلاوے جو انسان کو کسی حیلہ اور تدبیر اور علاج سے اس کی قوت نہیں دی گئی تو نبی کا وہ فعل خدا تعالیٰ کے
عیسائیوں کی قابل افسوس حالت
اقتداری معجزات ہمارے نبی صلعم کو سب سے زیادہ دئے گئے
اقتداری معجزہ خداتعالیٰ کی بلا توسط قدرتوں سے کم درجہ پر رہتا ہے