وبال نازؔ ل ہو جاتا ہے اور کسی کو رحمت کی نظر سے دیکھتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک مورد رحم ہوجاتا ہے اور جیسا کہ خدا تعالیٰ کا کُن دائمی طور پر نتیجہ مقصودہ کو بلا تخلف پیدا کرتا ہے ایسا ہی اُس کا کُن بھی اس تموّج اور مدّ کی حالت میں خطا نہیں جاتا۔ اور جیسا کہ میں بیان کرچکا ہوں ان اقتداری خوارق کی اصل وجہ یہی ہوتی ہے کہ یہ شخص شدت اتصال کی وجہ سے خدائے عزّوجلّ کے رنگ سے ظلّی طور پر رنگین ہوجاتا ہے اور تجلّیاتِ الٰہیہ اس پر دائمی قبضہ کر لیتے ہیں اور محبوب حقیقی حجب حائلہ کو درمیان سے اٹھا کر نہایت شدید قرب کی وجہ سے ہم آغوش ہوجاتا ہے اور جیسا کہ وہ خود مبارک ہے ایسا ہی اس کے اقوال و افعال و حرکات اور سکنات اور خوراک اور پوشاک اور مکان اور زمان اور اس کے جمیع لوازم میں برکت رکھ دیتا ہے تب ہر یک چیز جو اس سے مس کرتی ہے بغیر اس کے جو یہ دعا کرے برکت پاتی ہے۔ اس کے مکان میں برکت ہوتی ہے اس کے دروازوں کے آستانے برکت سے بھرے ہوتے ہیں اس کے گھر کے دروازوں پر برکت برستی ہے جو ہر دم اس کو مشاہدہ ہوتی ہے اور اس کی خوشبو اس کو آتی ہے جب یہ سفر کرے تو خدا تعالیٰ معہ اپنی تمام برکتوں کے اس کے ساتھ ہوتا ہے اور جب یہ گھر میں آوے تو ایک دریا نور کا ساتھ لاتا ہے غرض یہ عجیب انسان ہوتا ہے جس کی کنہ بجز خدا تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا۔
اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ فنا فی اللہ کے درجہ کی تحقّق کے بعد یعنی اس درجہ کے بعد جو 3 کے مفہوم کو لازم ہے جس کو صوفی فنا کے نام سے اور قرآن کریم استقامت کے اسم سے موسوم کرتا ہے درجہ بقا اور لقا کا بلاتوقف پیچھے آنے والا ہے یعنی جب کہ انسان خلق اور ہوا اور ارادہ سے بکلی خالی ہو کر فنا کی حالت کو پہنچ گیا تو اس حالت کے راسخ ہونے کے ساتھ ہی بقا کا درجہ شروع ہوجاتا ہے مگر
اہل اللہ کی ہر یک چیز میں برکت ہوتی ہے
بقا اور لقا کے مرتبہ کی کیفیت