ضمیمہؔ اخبار ریاض ہند امرتسر مطبوعہ یکم مارچ ۱۸۸۶ء بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم جان و د لم فد ا ئے جما ل محمدؐ ا ست خاکم نثار کوچۂ آل محمدؐ است دیدم بعین قلب و شنیدم بگوش ہوش در ہر مکان ندائے جلال محمدؐ است این چشمۂ روان کہ بخلق خدا دہم یک قطرۂ ز بحر کمال محمدؐ است این آتشم زآتش مہر محمدؐیست و این آب من ز آب زلال محمدؐ است رسالہ سراج منیر مشتمل بر نشانہائے رب قدیر یہ رسالہ اس احقر (مؤلف براہین احمدیہ) نے اس غرض سے تالیف کرنا چاہا ہے کہ تا منکرین حقیّت اسلام و مکذبین رسالت حضرت خیرالانام علیہ و آلہ الف الف سلام۔ کی آنکھوں کے آگے ایک ایسا چمکتا ہوا چراغ رکھا جائے جس کی ہرایک سمت سے گوہر آبدار کی طرح روشنی نکل رہی ہے اور بڑی بڑی پیشگوئیوں پر جو ہنوز وقوع میں نہیں آئیں مشتمل ہے چنانچہ خود خداوند کریم جلّ شانہٗ و عز اسمہ نے جس کو پوشیدہ بھیدوں کی خبر ہے۔ اس ناکارہ کو بعض اسرار مخفیہ و اخبار غیبیہ پر مطلع کر کے بارعظیم سے سبکدوش فرمایا حقیقت میں اسی کا فضل ہے اور اسی کا کام جس نے چار طرفہ کشاکش مخالفوں و موافقوں سے اس ناچیز کوَ مخلصی بخشی۔ ع ۔قصہ کوتہ کرد ورنہ درد سر بسیار بود۔ اب یہ رسالہ قریب الاختتام ہے اور انشاء اللہ القدیر صرف چند ہفتوں کا کام ہے۔ * اور اس رسالہ میں تین قسم کی پیشگوئیاں ہیں۔ اول وہ پیشگوئیاں کہ جو خود اس احقر کی ذات سے تعلق رکھتی ہیں یعنے جو کچھ راحت یا رنج یا حیات یا وفات اس ناچیز سے متعلق ہے یا جو کچھ تفضلات و انعامات الٰہیہ کا وعدہ اس ناچیز کو دیا گیا ہے وہ ان پیشگوئیوں میں مندرج ہے۔ دوسری وہ پیشگوئیاں جو بعض احباب یا عام طور پر کسی ایک شخص یا بنی نوع سے متعلق ہیں اور ان میں سے ابھی کچھ کام باقی ہے اور اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو وہ بقیہ بھی طے ہو جاوے گا۔ تیسری وہ پیشگوئیاں جو مذاہب غیر کے پیشواؤں یا واعظوں یا ممبروں سے تعلق رکھتی ہیں اور اس قسم میں ہم نے صرف بطور نمونہ چند آدمی آریہ صاحبوں اور چند قادیان کے ہندوؤں کو لیا ہے جن کی نسبت مختلف قسم کی پیشگوئیاں ہیں کیونکہ انہیں میں آجکل نئی نئی تیزی اور انکا ر اشد پایا جاتا ہے اور ہمیں اس تقریب پر یہ بھی خیال ہے کہ خداوند کریم ہماری محسن گورنمنٹ انگلشیہ کو جس کے احسانات سے ہم کو بتمام تر فراغت و آزادی گوشہ خلوت میسر و کنج امن و آسائش حاصل ہے ظالموں کے ہاتھ سے اپنی حفظ و حمایت میں رکھے اور روس منحوس کو اپنی سرگردانیوں میں محبوس و معکوس و مبتلا کر کے ہماری گورنمنٹ کو فتح و نصرت نصیب کرے تاہم وہ بشارتیں بھی (اگر مل جائیں) اس عمدہ موقع پر درج رسالہ کر دیں انشاء اللہ تعالیٰ اور چونکہ پیشگوئیاں کوئی اختیاری بات نہیں ہے تا ہمیشہ اور ہر حال میں خوشخبری پر دلالت کریں اس لئے ہم بانکسار تمام اپنے موافقین و مخالفین کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ اگر وہ کسی پیشگوئی کو اپنی نسبت ناگوار طبع (جیسے خبر موت فوت یا کسی اور مصیبت کی نسبت) پاویں تو اس بندہ ناچیز کو معذور تصور فرماویں بالخصوص وہ صاحب جو بباعث مخالفت و مغایرت مذہب اور بوجہ نامحرم اسرار ہونے کے حسن ظن کی طرف بمشکل رجوع کر سکتے ہیں جیسے منشی اندرمن صاحب