تھا۔ لیکن اب اس پر پورا یقین ہوگیا۔ جس قدر مرزا صاحب کے مخالف مولوی ہیں اس قدر اور کوئی نہیں۔ بلکہ اوروں کو عالموں ہی نے بہکایا ہے ورنہ آج تک ہزاروں بیعت کرلیتے۔ اور ایک جم غفیر مرزا صاحب کے ساتھ ہو جاتا لیکن مخالفت کا ہونا کچھ تعجب نہیں کیونکہ اگر ایسا زمانہ جس میں اس قسم کے فساد ہیں جس کی نظیر پچھلی صدیوں میں نامعلوم ہے نہ آتا تو ایسا مصلح بھی کیوں پیدا ہوتا۔ دجّال ہی کے قتل کو عیسیٰ تشریف لائے ہیں۔ اگر دجّال نہ ہوتا تو عیسیٰ کا آنا محال تھا۔ اور دنیا گمراہ نہ ہو جاتی تو مہدی کی کیا ضرورت تھی۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کام کو اس کے وقت پر کرتا ہے۔ یا اللہ تو ہمیں اپنے رسولؐ کی اپنے اولیاء کی محبت عنایت کر اور بے یقینی اور تردّدات سے امان بخش۔ صادقین کے ساتھ ہمیں الفت دے۔ کاذبوں سے پناہ میں رکھ۔ ہماری انانیت دور کر دے اور حرص و ہوا سے نجات بخش۔ آمین یا رب العالمین۔ راقم ۔ناصر نواب تاریخ ۲؍ جنوری ۱۸۹۳ ؁ء اشعار مصنفہ مولوی محمد عبداللہ خاں صاحب دوم مدرّس عربی مہندر کالج پٹیالہ دل میں جس شخص کے کچھ نور صفا ہوتا ہے حق کی وہ بات پہ سو جاں سے فدا ہوتا ہے حق کی جانب جو وہ ہر وقت جھکا ہوتا ہے لوم لائم سے نہ خوف اس کو ذرا ہوتا ہے دیکھنے والے یہ کہتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے ان کو کہہ دو کہ یونہی فضل خدا ہوتا ہے