* یہ رسالہ بعض مصالح کی وجہ سے اب تک ۲۵ فروری ۱۸۹۳ء ہے چھپ نہیں سکا مگر متفرق طور پر اس کی بعض پیشگوئیاں شائع ہوتی رہی ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ بھی شائع ہوتی رہیں گی۔ منہ
مرادؔ آبادی و پنڈت لیکھرام صاحب پشاوری وغیرہ جن کی قضا و قدر کے متعلق غالباً اس رسالہ میں بقید وقت و تاریخ کچھ تحریر ہوگا۔ ان صاحبوں کی خدمت میں دلی صدق سے ہم گذارش کرتے ہیں کہ ہمیں فی الحقیقت کسی کی بدخواہی دل میں نہیں بلکہ ہمارا خداوند کریم خوب جانتا ہے کہ ہم سب کی بھلائی چاہتے ہیں اور بدی کی جگہ نیکی کرنے کو مستعد ہیں اور بنی نوع کی ہمدردی سے ہمارا سینہ منور و معمور ہے اور سب کے لئے ہم راحت و عافیت کے خواستگار ہیں لیکن جو بات کسی موافق یا مخالف کی نسبت یا خود ہماری نسبت کچھ رنجدہ ہو تو ہم اس میں بکلی مجبور و معذور ہیں۔ ہاں ایسی بات کے دروغ نکلنے کے بعد جو کسی دل کے دُکھنے کا موجب ٹھہرے۔ ہم سخت لعن و طعن کے لائق بلکہ سزا کے مستوجب ٹھہریں گے۔ ہم قسمیہ بیان کرتے ہیں اور عالم الغیب کو گواہ رکھ کر کہتے ہیں کہ ہمارا سینہ سراسر نیک نیتی سے بھرا ہوا ہے اور ہمیں کسی فرد بشر سے عداوت نہیں اور گو کوئی بدظنی کی راہ سے کیسی ہی بدگوئی و بد زبانی کی مشق کر رہا ہے اور نا خدا ترسی سے ہمیں آزار دے رہا ہے ہم پھر بھی اس کے حق میں دعا ہی کرتے ہیں کہ اے خدائے قادر و توانا اس کو سمجھ بخش اور ہم اس کو اس کے ناپاک خیال اور ناگفتنی باتوں میں معذور سمجھتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ابھی اس کا مادہ ہی ایسا ہے اور ہنوز اُس کی سمجھ اور نظر اسی قدر ہے کہ جو حقائق عالیہ تک نہیں پہنچ سکتی۔
زاہد ظاہر پرست از حال ما آگاہ نیست
در حق ما ہرچہ گوید جائے ہیچ اکراہ نیست
اور باوجود اس رحمت عام کے کہ جو فطرتی طور پر خدائے بزرگ و برتر نے ہمارے وجود میں رکھی ہے اگر کسی کی نسبت کوئی بات نا ملائم یا کوئی پیشگوئی وحشت ناک بذریعہ الہام ہم پر ظاہر ہو تو وہ عالم مجبوری ہے جس کو ہم غم سے بھری ہوئی طبیعت کے ساتھ اپنے رسالہ میں تحریر کریں گے۔ چنانچہ ہم پر خود اپنی نسبت اپنے بعض جدّی اقارب کی نسبت اپنے بعض دوستوں کی نسبت اور بعض اپنے فلاسفر قومی بھائیوں کی نسبت کہ گویا نجم الہند ہیں اور ایک دیسی امیر نووارد پنجابی الاصل کی نسبت بعض متوحش خبریں جو کسی کے ابتلاء اور کسی کی موت و فوت اعزا اور کسی کی خود اپنی موت پر دلالت کرتی ہیں جو انشاء اللہ القدیر بعد تصفیہ لکھی جائیں گی منجانب اللہ منکشف ہوئی ہیں۔ اور ہر ایک کے لئے ہم دعا کرتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اگر تقدیر معلق ہو تو دعاؤں سے بفضلہ تعالیٰ ٹل سکتی ہے۔ اسی لئے رجوع کرنے والی مصیبتوں کے وقت مقبولوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور شوخیوں اور بے راہیوں سے باز آجاتے ہیں- بااین ہمہ اگر کسی صاحب پر کوئی ایسی پیشگوئی شاق گذرے تو وہ مجاز ہیں کہ یکم مارچ ۱۸۸۶ ء سے یا اس تاریخ سے جو کسی اخبار میں پہلی دفعہ یہ مضمون شائع ہو ٹھیک ٹھیک دو ہفتہ کے اندر اپنی دستخطی تحریر سے مجھ کو اطلاع دیں تا وہ پیشگوئی جس کے ظہور سے وہ ڈرتے ہیں،اندراج رسالہ سے علیحدہ رکھی جاوے اور موجب دل آزاری سمجھ کر کسی کو اس پر مطلع نہ کیا جائے اور کسی کو اس کے وقت ظہور سے خبر نہ دی جائے۔