منظوؔ ر نہ کرے۔ اور اگر منظور کرے تو ناراض ہو کر اور شاید غیبت میں لوگوں سے گلہ بھی کرے۔ ع۔ ببیں تفاوتِ رہ از کجا است تا بکجا۔ یہ نمونہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ہر صدی میں ہزاروں اولیاء (جن پر ان کے زمانہ میں کفر کے فتوے بھی ہوتے رہے ہیں) گذرے ہیں۔ اور کم و بیش ان کے مرید ان کے فرمانبردار اور جان نثار ہوئے ہیں۔ یہ نتیجہ ہے نیکوں کی خدا کے ساتھ دلی محبت کا۔ مرزا صاحب کو چونکہ سچی محبت اپنے مولا سے ہے اس لئے آسمان سے قبولیّت اتری ہے اور رفتہ رفتہ باوجود مولویوں کی سخت مخالفت کے سعید لوگوں کے دلوں میں مرزا صاحب کی الفت ترقی کرتی جا رہی ہے (اگرچہ ابو سعید صاحب خفا ہی کیوں نہ ہوں) اب اس کے مقابل میں مولوی صاحب جو آج ماشاء اللہ آفتاب پنجاب بنے ہوئے ہیں اپنے حال میں غور فرماویں کہ کس قدر سچے محب ان کے ہیں اور ان کے سچے دوستوں کا اندرونی کیا حال ہے۔ شروع شروع میں کہتے ہیں مولوی صاحب کبھی اچھے شخص تھے مگر اب تو انہیں ُ حبِّ جَاہ اور علم و فضل کے فخر نے عرشِ عزت سے خاکِ مذلت پر گرا دیا۔ ا نّا للّٰہ و ا نّا الیہ راجعون۔
اب مولوی صاحب غور فرماویں کہ یہ کیا پتھر پڑ گئے کہ مولوی اور خصوصاً مولوی محمد حسین صاحب سرآمد علماء پنجاب (بزعم خود) سے لوگوں کو اس قدر نفرت کہ جس کے باعث مولوی صاحب کو لاہور چھوڑنا پڑا۔ موحدین کی جامع مسجد میں اگر اتفاقاً لاہور میں تشریف لے جاویں تو مارے ضد اور شرم کے داخل نہیں ہو سکتے۔ اور مرزا صاحب کے پاس (جو بزعم مولوی صاحب کافر بلکہ اکفر اور دجّال ہیں)۔ گھر بیٹھے لاہور، امرتسر، پشاور، کشمیر، جموں، سیالکوٹ، کپورتھلہ، لدھیانہ، بمبئی، ممالک شمال و مغرب، اودھ، مکہ معظمہ وغیرہ بلاد سے لوگ گھر سے بوریا بدھنا باندھے چلے آتے ہیں۔ پھر آنے والے بدعتی نہیں۔ مشرک نہیں۔ جاہل نہیں۔ کنگال نہیں۔ بلکہ موحد۔ اہلحدیث۔ مولوی۔ مفتی۔ پیرزادے۔ شریف۔ امیر۔ نواب۔ وکیل۔ اب ذرا سوچنے کا مقام ہے کہ باوجود مولوی محمد حسین کے گرانے کے اور اکثر مولویوں سے کفر کے فتوے پر مہریں لگوانے کے اللہ جلّ شانہٗ نے مرزا صاحب کو کس قدر چڑھایا اور کس قدر