بچنےؔ والا صوفی کبریت احمر اور کیمیائے سعادت کا حکم رکھتا ہے۔ مولوی محمد حسین صاحب اپنے دل میں غور فرما کر دیکھیں کہ وہ کہاں تک مسکینی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ ان میں اگر مسکینی ہوتی تو اس قدر فساد ہی کیوں ہوتا۔ یہ نوبت بھی کیوں گذرتی۔ اس قدر ان کے متبعین کو ان سے عداوت اور نفرت کیوں ہوتی۔ اہلحدیث اکثر ان سے بیزار کیوں ہو جاتے۔ اگر مولوی صاحب اس میرے بیان کو غلط خیال فرماویں تو میں انہیں پر حوالہ کرتا ہوں۔ انصافًا و ایمانًا اپنے احباب کی ایک فہرست تو لکھ کر چھپوا دیں کہ جو اُن سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسا کہ مرزا صاحب کے مرید مرزا صاحب سے محبت رکھتے ہیں۔ مجھے قیافہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت عنقریب ہے کہ جناب مرزا صاحب کی خاکِ پا کو اہل بصیرت آنکھوں میں جگہ دیں اور اکسیر سے بہتر سمجھیں اور تبرک خیال کریں۔ مرزا صاحب کے سینکڑوں ایسے صادق دوست ہیں جو مرزا صاحب پر دل و جان سے قربان ہیں۔ اختلاف کا تو کیا ذکر ہے۔ روبرو اُف تک نہیں کرتے سرتسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے۔ مولوی محمد حسین صاحب زیادہ نہیں چار پانچ آدمی تو ایسے اپنے شاگرد یا دوست بتا ویں جو پوری پوری (خدا کے واسطے) مولوی صاحب سے محبت رکھتے ہوں اور دل و جان سے فدا ہوں اور اپنے مال کو مولوی صاحب پر قربان کر دیں اور اپنی عزت کو مولوی صاحب کی عزت پر نثار کرنے کیلئے مستعد ہوں۔ اگر مولوی صاحب یہ فرماویں کہ سچوں اور نیکوں سے لوگوں کو محبت نہیں ہوتی بلکہ جھوٹے اور مکاروں سے لوگوں کو اُلفت ہوتی ہے تو میں پوچھتا ہوں کہ اصحاب و اہل بیت کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت تھی یا نہیں۔ وہ حضرت کے پورے پورے تابع تھے یا ان کو اختلاف تھا۔ بہت نزدیک کی ایک بات یاد دلاتا ہوں کہ مولوی عبداللہ صاحب غزنوی جو میرے اور نیز محمد حسین صاحب کے پیر و مرشد تھے۔ اُن کے مرید اُن سے کس قدر محبت رکھتے تھے اور کس قدر اُن کے تابع فرمان تھے۔ سنا ہے کہ ایک دفعہ انہوں نے اپنے ایک خاص مرید کو کہا کہ تم نجد واقعہ ملک عرب میں جاکر رسائل توحید مصنّفہ محمد بن عبدالوہاب نقل کر لاؤ۔ وہ مرید فوراً رخصت ہوا۔ ایک دم کا بھی توقف نہ کیا۔ حالانکہ خرچ راہ و سواری بھی اس کے پاس نہ تھا۔ مولوی محمد حسین صاحب اگر اپنے کسی دوست کو بازار سے پیسہ دے کر دہی لانے کو فرماویں تو شاید