خلقؔ خدا کے دلوں کو متوجہ کر دیا کہ اپنا آرام چھوڑ کر۔ وطن سے جدا ہو کر۔ روپیہ خرچ کر کے قادیان میں آکر زمین پر سوتے بلکہ ریل میں ایک دو رات جاگے بھی ضرور ہوں گے اور کئی پیادہ چل کر بھی حاضر ہوئے۔ میں نے ایک شخص کے بھی منہ سے کسی قسم کی شکایت نہیں سنی۔ مرزا صاحب کے گرد ایسے جمع ہوتے تھے جیسے شمع کے گرد پروانے۔ جب مرزا صاحب کچھ فرماتے تھے تو ہمہ تن گوش ہو جاتے تھے۔ قریباً چالیس پچاس شخص اس جلسہ پر مرید ہوئے۔ مرزا احمد بیگ کے انتقال کی پیشگوئی کے پورے ہونے کا ذکر بھی مرزا صاحب نے ساری خلقت کے روبرو سنایا جس کے بارے میں نور افشاں نے مرزا صاحب کو بہت کچھ برا بھلا کہا تھا۔ اب نور افشاں خیال کرے کہ پیشگوئیاں اس طرح پوری ہوتی ہیں۔ یہ بات بجز اہل اسلام کے کسی دین والے کو آجکل حاصل نہیں اور مسلمان خصوصاً مخالفین سوچیں کہ یہ خوب بات ہے کہ کافر اکفر۔ دجال۔ مکار کی پیشگوئیاں باوجودیکہ اللہ تعالیٰ پر افتراؤں کی طومار باندھ رہا ہے اللہ تعالیٰ پوری کر دے اور رسول اللہ صلعم کے (بزعمِ خود) نائبین کی باتوں میں خاک بھی اثر نہ دے اور ان کو ایسا ذلیل کرے کہ لاہور چھوڑ کر بٹالہ میں آنا پڑے۔ افسوس صد افسوس آجکل کے ان مولویوں کی نابینائی پر جو العلم حجاب الاکبر کے نیچے دبے پڑے ہیں اور بایں وجہ ایک ایسے برگزیدہ بندہ کا نام دجال و کافر رکھتے ہیں جس کی اللہ تعالیٰ کو ایسی محبت ہے کہ دین کی خدمت پر مقرر کر رکھا ہے اور وہ بندۂ خدا آریہؔ ، برہموؔ ، عیسائیوںؔ ، نیچریوںؔ سے لڑ رہا ہے۔ کوئی کافر تاب مقابلہ نہیں لا سکتا۔ نہ کوئی مولوی باوجود کافرؔ ، ملعونؔ ، دجالؔ بنانے کے خلقت کے دلوں کو ان کی طرف سے ہٹا سکتا ہے۔ معاذاللہ، عصاء موسیٰ و ید بیضا کو بزعم خود مولویان پسپا اور رسوا کر رہا ہے۔ نائبین رسول مقبول میں کوئی برکت کچھ نورانیت نہیں رہی۔ اتنا بھی سلیقہ نہیں کہ اپنے چند شاگردوں کو بھی قابو میں رکھ سکیں اور خلق محمدی کا نمونہ دکھا کر اپنا شیفتہ بنالیں۔ کسی ملک میں ہدایت پھیلانا اور مخالفین اسلام کو زیر کرنا تو درکنار ایک شہر بلکہ ایک محلہ کو بھی درست نہیں کر سکتے۔ برخلاف اس کے مرزا صاحب نے شرقًا غربًا مخالفین اسلام کو دعوت اسلام کی اور ایسا نیچا