فمنؔ تاب من بعد ظلمہ و اصلح فان اللّٰہ یتوب علیہ ان اللّٰہ غفور رحیم بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کیفیت جلسہ سالانہ قادیان ضلع گورداسپورہ تاریخ ۲۷ ؍ دسمبر ۱۸۹۲ء بر مکان جناب مجدّدِ وقت مسیح الزمان مرزا غلام احمد صاحب سلمہ الرحمن اور اس پر بندہ کی رائے جو ملاقات مرزا صاحب موصوف اور معاینہ جلسہ اور اہل جلسہ کے بعد قائم ہوئی مرزا صاحب نے مجھے بھی باوجودیکہ ان کو اچھی طرح معلوم تھا کہ میں ان کا مخالف ہوں نہ صرف مخالف بلکہ بدگو بھی اور یہ مکرّ ر سہ کرّ ر مجھ سے وقوع میں آ چکا ہے جلسہ پر بلایا اور چند خطوط جن میں ایک رجسٹری بھی تھا بھیجے۔ اگرچہ پیشتر بسبب جہالت اور مخالفت کے میرا ارادہ جانے کا نہ تھا لیکن مرزا صاحب کے بار بار لکھنے سے میرے دل میں ایک تحریک پیدا ہوئی۔ اگر مرزا صاحب اس قدر شفقت سے نہ لکھتے تو میں ہرگز نہ جاتا اور محروم رہتا۔ مگر یہ انہیں کا حوصلہ تھا۔ آج کل کے مولوی تو اپنے سگے باپ سے بھی اس شفقت اور عزت سے پیش نہیں آتے۔ میں ۲۷ ؍ تاریخ کو دوپہر سے پہلے قادیان میں پہنچا۔ اس وقت مولوی حکیم نور الدین صاحب مرزا صاحب کی تائید میں بیان کر رہے تھے اور قریب ختم کے تھا۔ افسوس کہ میں نے پورا نہ سنا۔ لوگوں سے سنا کہ بہت عمدہ بیان تھا۔ پھر حامد شاہ صاحب نے اپنے اشعار مرزا صاحب کی صداقت اور تعریف میں پڑھے۔ لیکن چونکہ مجھے ہنوز رغبت نہیں تھی اور میرا دل غبار آلودہ تھا کچھ شوق اور محبت سے نہیں سنا۔ لیکن اشعار عمدہ تھے۔ اللہ تعالیٰ مصنّف کو جزائے خیر عنایت فرماوے۔ جب میں مرزا صاحب سے ملا اور وہ اخلاق سے پیش آئے تو میرا دل نرم ہوا گویا مرزا صاحب کی نظر سرمہ کی سلائی تھی جس سے غبار کدورت میرے دل کی آنکھوں سے دور ہوگیا اور غیظ و غضب کے نزلہ کا