پانیؔ خشک ہونے لگا اور کچھ کچھ دھندلا سا مجھے حق نظر آنا شروع ہوا اور رفتہ رفتہ باطنی بینائی درست ہوئی۔ مرزا صاحب کے سوا اور کئی بھائی اس جلسہ میں ایسے تھے کہ جن کو میں حقارت اور عداوت سے دیکھتا تھا اب ان کو محبت اور الفت سے دیکھنے لگا اور یہ حال ہوا کہ کل اہل جلسہ میں جو مرزا صاحب کے زیادہ محب تھے وہ مجھے بھی زیادہ عزیز معلوم ہونے لگے۔ بعد عصر مرزا صاحب نے کچھ بیان فرمایا جس کے سننے سے میر ے تمام شبہات رفع ہوگئے اور آنکھیں کھل گئیں۔ دوسرے روز صبح کے وقت ایک امرتسری وکیل صاحب نے اپنا عجیب قصہ سنایا جس سے مرزا صاحب کی اعلیٰ درجہ کی کرامت ثابت ہوئی۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ وکیل صاحب پہلے سنت جماعت مسلمان تھے۔ جب جوان ہوئے رسمی علم پڑھا تو دل میں بسبب مذہبی علم سے ناواقفیّت اور علمائے وقت وپیرانِ زمانہ کے باعمل نہ ہونے کے شبہات پیدا ہوئے اور تسلی بخش جواب کہیں سے نہ ملنے کے باعث سے چند بار مذہب تبدیل کیا۔ُ سنّی سے شیعہ بنے وہاں بجز تبرّا بازی اور تعزیہ سازی کچھ نظر نہ آیا۔ آریہ ہوئے چند روز وہاں کا مزا بھی چکھا۔ مگر لطف نہ آیا۔ برہمو میں شامل ہوئے۔ ان کا طریق اختیار کیا۔ لیکن وہاں بھی مزا نہ پایا۔ نیچری بنے لیکن اندرونی صفائی یا خدا کی محبت۔ کچھ نورانیت کہیں بھی نظر نہ آئی۔ آخر مرزا صاحب سے ملے اور بہت بیباکانہ پیش آئے۔ مگر مرزا صاحب نے لطف سے مہربانی سے کلام کیا۔ اور ایسا اچھا نمونہ دکھایا کہ آخرکار اسلام پر پورے پورے جم گئے اور نمازی بھی ہوگئے۔ اللہ و رسولؐ کے تابعدار بن گئے۔ اب مرزا صاحب کے بڑے معتقد ہیں۔ رات کو مرزا صاحب نے نواب صاحب ۱؂ کے مقام پر بہت عمدہ تقریر کی اور چند اپنے خواب اور الہام بیان فرمائے۔ چند لوگوں نے صداقت الہام کی گواہیاں دیں جنکے روبرو وہ الہام پورے ہوئے۔ ایک صاحب نے صبح کو بعد نماز صبح عبداللہ صاحب غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک خواب سنایا۔ جبکہ عبداللہ صاحب خَیردی گاؤں میں تشریف ۱؂ نواب صاحب مالیر کوٹلہ جو اُس وقت مع چنداپنے ہمراہیان کے شریک جلسہ تھے۔۱۲