قابلؔ توجہ احباب
اگرچہ مکرر یاد دہانی کی کچھ ضرورت نہیں تھی لیکن چونکہ دل میں انجام خدمت دینی کے لئے سخت اضطراب ہے اس وجہ سے پھر یہ چند سطریں بطور تاکید لکھتا ہوں۔
اے جماعت مخلصین خدا تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اس وقت ہمیں تمام قوموں کے ساتھ مقابلہ درپیش ہے اور ہم خدا تعالیٰ سے امید رکھتے ہیں کہ اگر ہم ہمت نہ ہاریں اور اپنے سارے دل اور سارے زور اور ساری توجہ سے خدمت اسلام میں مشغول ہوں تو فتح ہماری ہوگی۔ سو جہاں تک ممکن ہو اس کام کیلئے کوشش کرو۔ ہمیں اس وقت تین قسم کی جمعیت کی سخت ضرورت ہے۔ جس پر ہمارے کام اشاعت حقائق و معارف دین کا سارا مدار ہے۔ اول یہ کہ ہمارے ہاتھ میں کم سے کم دو پریس ہوں۔ دوئم ایک خوشخط کاپی نویس۔ سوئم کاغذ۔ ان تینوں مصارف کے لئے اڑھائی سو روپیہ ماہواری کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اب چاہیئے کہ ہر ایک دوست اپنی اپنی ہمت اور مقدرت کے موافق بہت جلد بلاتوقف اس چندہ میں شریک ہو۔ اور یہ چندہ ہمیشہ ماہواری طور سے ایک تاریخ مقررہ پر پہنچ جانا چاہیئے۔ بالفعل یہ تجویز ہوئی ہے کہ بقیہ براہین اور ایک اخبار جاری ہو اور آئندہ جو جو ضرورتیں پیش آئیں گی ان کے موافق وقتًا فوقتًا رسائل نکلتے رہیں گے۔ اور چونکہ یہ تمام کاروبار چندہ پر موقوف ہے اس لئے اس بات کو پہلے سوچ لینا چاہیئے کہ اس قدر اپنی طرف سے چندہ مقرر کریں جو بہ سہولت ماہ بماہ پہنچ سکے۔ اے مردمان دین کوشش کرو کہ یہ کوشش کا وقت ہے اپنے دلوں کو دین کی ہمدردی کیلئے جوش میں لاؤ کہ یہی جوش دکھانے کے دن ہیں۔ اب تم خدا تعالیٰ کو کسی اور عمل سے ایسا راضی نہیں کر سکتے جیسا کہ دین کی ہمدردی سے۔ سو جاگو اور اٹھو اور ہوشیار ہو جاؤ اور دین کی ہمدردی کے لئے وہ قدم اٹھاؤ کہ فرشتے بھی آسمان پر جزاکم اللہ کہیں اس سے مت غمگین ہو کہ لوگ تمہیں کافر کہتے ہیں تم اپنا اسلام خدا تعالیٰ کو دکھلاؤ اور اتنے جھکو کہ بس فدا ہی ہو جاؤ۔
دوستان خود را نثار حضرت جانان کنید
در رہِ آن یار جانی جان و دل قربان کنید
آن دل خوش باش را اندر جہان جویدخوشی
ازپئے دین محمد کلبۂ احزان کنید
از تعیش ہا بروں آئید اے مردان حق
خویشتن را از پئے اسلام سرگردان کنید