۷۵ؔ کے تین سو ستائیس احباب شامل جلسہ ہوئے اور ایسے صاحب بھی تشریف لائے جنہوں نے توبہ کر کے بیعت کی۔ اب سوچنا چاہیئے کہ کیا یہ خدا تعالیٰ کی عظیم الشان قدرتوں کا ایک نشان نہیں کہ بٹالوی صاحب اور ان کے ہم خیال علماء کی کوششوں کا الٹا نتیجہ نکلا اور وہ سب کوششیں برباد ہوگئیں۔ کیا یہ خدا تعالیٰ کا فعل نہیں کہ میاں بٹالوی کے پنجاب اور ہندوستان میں پھرتے پھرتے پاؤں بھی گھس گئے لیکن انجام کار خدا تعالیٰ نے ان کو دکھلا دیا کہ کیسے اس کے ارادے انسان کے ارادوں پر غالب ہیں۔ 33۔۱؂ اس سال میں خدا تعالیٰ نے دو نشان ظاہر کئے۔ ایک بٹالوی کا اپنی کوششوں میں نامراد رہنا۔ دوسرے اس پیشگوئی کے پورے ہونے کا نشان جو نور افشاں۔ ۱۰ مئی ۱۸۸۸ ؁ء میں چھپ کر شائع ہوئی تھی۔ اب بھی بہتر ہے کہ بٹالوی صاحب اور ان کے ہم مشرب باز آجائیں اور خدا تعالیٰ سے لڑائی نہ کریں۔ والسّلام علٰی من اتبع الھدٰی۔ مطبوعہ ریاض ہند پریس قادیان