اِسؔ جگہ یہ نکتہ بھی یاد رہے کہ آیت موصوفہ بالا یعنی 3 333۔۱؂ سعادت تامہ کے تینوں ضروری درجوں یعنی فنا اور بقا اور لقا کی طرف اشارت کرتی ہے۔ کیونکہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں 3 کا فقرہ یہ تعلیم کررہا ہے کہ تمام قویٰ اور اعضا اور جو کچھ اپنا ہے خدا تعالیٰ کو سونپ دینا چاہئے اور اس کی راہ میں وقف کر دینا چاہئے اور یہ وہی کیفیت ہے جس کا نام دوسرے لفظوں میں فنا ہے۔ و جہ یہ کہ جب انسان نے حسب مفہوم اس آیت ممدوحہ کے اپنا تمام وجود معہ اس کی تمام قوتوں کے خدا تعالیٰ کو سونپ دیا اور اس کی راہ میں وقف کردیا اور اپنی نفسانی جنبشوں اور سکونوں سے بکلی باز آگیا تو بلاشبہ ایک قسم کی موت اس پر طاری ہو گئی اور اسی موت کو اہل تصوّ ف فنا کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ پھر بعد اس کے 3 کا فقرہ مرتبہ بقا کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ جب انسان بعد فنا اکمل واتم و سلب جذبات نفسانی۔ الٰہی جذبہ اور تحریک سے پھر جنبش میں آیا اور بعد منقطع ہوجانے تمام نفسانی حرکات کے پھر ربانی تحریکوں سے ُ پر ہو کر حرکت کرنے لگا تو یہ وہ حیاتِ ثانی ہے جس کا نام بقا رکھنا چاہئے۔ پھر بعد اس کے یہ فقرات 33333 جو اثبات و ایجاب اجر و نفی و سلب خوف و حزن پر دلالت کرتے ہیں یہ حالتِ لقا کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جس وقت انسان کے عرفان اور یقین اور توکل اور محبت میں ایسا مرتبہ عالیہ پیدا ہوجائے کہ اس کے خلوص اور ایمان اور وفا سعادت تامہ اسلام کے مدارج ۱؂ البقرۃ: