کا اؔ جر اس کی نظر میں وہمی اور خیالی اور ظنی نہ رہے بلکہ ایسا یقینی اور قطعی اور مشہود اور مرئی اور محسوس ہو کہ گویا وہ اس کو مل چکا ہے اور خدا تعالیٰ کے وجود پر ایسا یقین ہوجائے کہ گویا وہ اس کو دیکھ رہا ہے اور ہریک آئندہ کا خوف اس کی نظر سے اٹھ جاوے اور ہریک گزشتہ اور موجودہ غم کا نام و نشان نہ رہے اور ہریک روحانی تنعم موجود الوقت نظر آوے تو یہی حالت جو ہریک قبض اور کدورت سے پاک اور ہریک دغدغہ اور شک سے محفوظ اور ہریک درد انتظار سے منزّہ ہے لقا کے نام سے موسوم ہے اور اس مرتبہ لقا پر محسن کا لفظ جو آیت میں موجود ہے نہایت صراحت سے دلالت کر رہا ہے کیونکہ احسان حسب تشریح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت کاملہ کا نام ہے کہ جب انسان اپنی پرستش کی حالت میں خدا تعالیٰ سے ایسا تعلق پیدا کرے کہ گویا اس کو دیکھ رہا ہے۔ اور یہ لقا کا مرتبہ تب سالک کیلئے کامل طور پر متحقّق ہوتا ہے کہ جب ربّانی رنگ بشریت کے رنگ و بو کو بتمام و کمال اپنے رنگ کے نیچے متوازی اور پوشیدہ کر دیوے جس طرح آگ لوہے کے رنگ کو اپنے نیچے ایسا چھپا لیتی ہے کہ نظر ظاہر میں بجز آگ کے اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ یہ وہی مقام ہے جس پر پہنچ کر بعض سالکین نے لغزشیں کھائی ہیں اور شہودی پیوند کو وجودی پیوند کے رنگ میں سمجھ لیا ہے۔ اس مقام میں جو اولیاء اللہ پہنچے ہیں یا جن کو اس میں سے کوئی گھونٹ میسر آگیا ہے۔ بعض اہل تصوف نے ان کا نام اطفال اللہ رکھ دیا ہے اس مناسبت سے کہ وہ لوگ صفات الٰہی کے کنار عاطفت میں بکلی جا پڑے ہیں اور جیسے ایک شخص کا لڑکا اپنے حلیہ اور خط و خال میں کچھ اپنے باپ سے مناسبت رکھتا ہے ویسا ہی ان کو بھی ظلی طور پر بوجہ تخلق باخلاق اللہ خداتعالیٰ کی صفات جمیلہ سے کچھ مناسبت پیدا ہوگئی ہے۔ ایسے نام سعادتِ تامہ اسلام کے مدارج اطفال اللہ