ہوؔ سکتی ہے ان کو نفع پہنچاوے اور ہر یک مدد کے محتاج کو اپنی خداداد قوت سے مدد دے اور ان کی دنیا و آخرت دونوں کی اصلاح کیلئے زور لگاوے۔
مگر یہِ للّہی وقف محض اس صورت میں اسم بامسمّٰی ہوگی کہ جب تمام اعضا للّہی طاعت کے رنگ سے ایسے رنگ پذیر ہوجائیں کہ گویا وہ ایک الٰہی آلہ ہیں جن کے ذریعہ سے وقتاً فوقتاً افعال الٰہیہ ظہور پذیر ہوتے ہیں یا ایک مصفّاآئینہ ہیں جس میں تمام مرضیات الہٰیّہ بصفاء تام عکسی طور پر ظہور پکڑتی رہتی ہیں اور جب اس درجہ کاملہ پر للّہی طاعات و خدمات پہنچ جائیں تو اس صبغۃ اللہ کی برکت سے اس وصف کے انسان کے قویٰ اور جوارح کی نسبت وحدت شہودی کے طور پر یہ کہنا صحیح ہوتا ہے کہ مثلاً یہ آنکھیں خدا تعالیٰ کی آنکھیں اور یہ زبان خدا تعالیٰ کی زبان اور یہ ہاتھ خدا تعالیٰ کے ہاتھ اور یہ کان خدا تعالیٰ کے کان اور یہ پاؤں خدا تعالیٰ کے پاؤں ہیں۔ کیونکہ وہ تمام اعضاء اور قوتیں للّہی راہوں میں خدا تعالیٰ کے ارادوں سے پُر ہو کر اور اس کی خواہشوں کی تصویر بن کر اس لائق ہوجاتی ہیں کہ ان کو اسی کا روپ کہا جاوے وجہ یہ کہ جیسے ایک شخص کے اعضاء پورے طور پر اس کی مرضی اور ارادہ کے تابع ہوتے ہیں ایسا ہی کامل انسان اس درجہ پر پہنچ کر خدا تعالیٰ کی مرضیات و ارادت سے موافقت تامہ پیدا کر لیتا ہے اور
خدا تعالیٰ کی عظمت اور وحدانیّت اور مالکیّت اور معبودیّت اور اس کی ہریک مرضی اور خواہش کی بات ایسی ہی اس کو پیاری معلوم ہوتی ہے کہ جیسی خود خدا تعالیٰ کو۔ سو یہ عظیم الشان للّہی طاعت و خدمت جو پیار اور محبت سے ملی ہوئی اور خلوص اور حنفیّت تامہ سے بھری ہوئی ہے یہی اسلام اور اسلام کی حقیقت اور اسلام کالُب لباب ہے جو نفس اور خلق اور ہوا اور ارادہ سے موت حاصل کرنے کے بعد ملتا ہے۔