اورؔ کوئی انسان کبھی اس شریف لقب اہل اسلام سے حقیقی طور پر ملقب نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنا سارا وجود معہ اس کی تمام قوتوں اور خواہشوں اور ارادوں کے حوالہ بخدانہ کر دیوے اور اپنی انانیت سے معہ اس کے جمیع لوازم کے ہاتھ اٹھا کر اسی کی راہ میں نہ لگ جاوے۔ پس حقیقی طور پر اسی وقت کسی کو مسلمان کہا جائے گا کہ جب اس کی غافلانہ زندگی پر ایک سخت انقلاب وارد ہو کر اس کے نفس ا ّ مارہ کا نقش ہستی معہ اس کے تمام جذبات کے یکدفعہ مٹ جائے اور پھر اس موت کے بعد محسن ِ للہ ہونے کے نئی زندگی اس میں پیدا ہو جائے اور وہ ایسی پاک زندگی ہو جو اس میں بجز طاعت خالق اور ہمدردی مخلوق کے اور کچھ بھی نہ ہو۔ خالق کی طاعت اس طرح سے کہ اس کی عزت و جلال اور یگانگت ظاہر کرنے کے لئے بے عزتی اور ذلّت قبول کرنے کیلئے مستعد ہو اور اس کی وحدانیت کا نام زندہ کرنے کیلئے ہزاروں موتوں کے قبول کرنے کیلئے طیار ہو اور اس کی فرمانبرداری میں ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کو بخوشی خاطر کاٹ سکے اور اس کے احکام کی عظمت کا پیار اور اس کی رضا جوئی کی پیاس گناہ سے ایسی نفرت دلاوے کہ گویا وہ کھا جانے والی ایک آگ ہے یا ہلاک کرنے والی ایک زہر ہے یا بھسم کردینے والی ایک بجلی ہے جس سے اپنی تمام قوتوں کے ساتھ بھاگنا چاہے۔ غرض اس کی مرضی ماننے کیلئے اپنے نفس کی سب مرضیات چھوڑ دے اور اس کے پیوند کیلئے جانکاہ زخموں سے مجروح ہونا قبول کر لے اور اس کے تعلق کا ثبوت دینے کیلئے سب نفسانی تعلقات توڑ دے۔ اور خلق اللہ کی خدمت اس طرح سے کہ جس قدر خلقت کی حاجات ہیں اور جس قدر مختلف وجوہ اور طرق کی راہ سے قسّام ازل نے بعض کو بعض کا محتاج کر رکھا ہے ان تمام امور میں محض ِ للہ اپنی حقیقی اور بے غرضانہ اور سچی ہمدردی سے جو اپنے وجود سے صادر