خداؔ تعالیٰ کی طرف سے ان پر قائم ہو اور یہ دلیل قطعی ہے کیونکہ جو شخص اپنے دعویٰ منجانب اللہ ہونے میں کاذب ہو اس کی پیشگوئی بموجب تعلیم قرآن کریم اور توریت کے سچی نہیں ٹھہر سکتی وجہ یہ کہ اگر خدا تعالیٰ کاذب کے دعویٰ دروغ پر کوئی پیشگوئی اس کی سچی کر دیوے تو پھر دعویٰ کا سچا ہونا لازم آتا ہے اور اس سے خلق اللہ دھوکہ میں پڑتی ہے۔ پھر اس کے بعد حضرت اقدس مرزا صاحب نے اپنی جماعت کے احباب کی باہمی محبت اور تقویٰ اور طہارت کے بارے میں مناسب وقت چند نصیحتیں کیں۔ پھر اس کے بعد ۲۸ دسمبر ۱۸۹۲ ؁ء کو یورپ اور امریکہ کی دینی ہمدردی کے لئے معزز حاضرین نے اپنی اپنی رائے پیش کی۔ اور یہ قرار پایا کہ ایک رسالہ جو اہم ضروریات اسلام کا جامع اور عقائد اسلام کا خوبصورت چہرہ معقولی طور پر دکھاتا ہو تالیف ہو کر اور پھر چھاپ کر یورپ اور امریکہ میں بہت سی کاپیاں اس کی بھیج دی جائیں۔ بعد اس کے قادیان میں اپنا مطبع قائم کرنے کے لئے تجاویز پیش ہوئیں اور ایک فہرست ان صاحبوں کے چندہ کی مرتب کی گئی جو اعانت مطبع کیلئے بھیجتے رہیں گے یہ بھی قرار پایا کہ ایک اخبار اشاعت اور ہمدردی اسلام کے لئے جاری کیا جائے اور یہ بھی تجویز ہوا کہ حضرت مولوی سیّد محمد احسن صاحب امروہی اس سلسلہ کے واعظ مقرر ہوں اور وہ پنجاب اور ہندوستان کا دورہ کریں بعد اسکے دعائے خیر کی گئی۔ آئندہ بھی ہمیشہ اس سالانہ جلسہ کے یہی مقاصد رہیں گے کہ اشاعت اسلام اور ہمدردی نو مسلمین امریکہ اور یورپ کے لئے احسن تجاویز سوچی جائیں اور دنیا میں نیک چلنی اور نیک نیتی اور تقویٰ اور طہارت اور اخلاقی حالات کے ترقی دینے اور اخلاق اور عادات دنیّہ اور رسوم قبیحہ کو