اور ؔ دوسرے مقدّس نبی پہنچ چکے تھے اس تقریر کے ضمن میں مولوی صاحب موصوف نے بہت سے حقائق معارف قرآن کریم بیان فرمائے جن سے حاضرین پر بڑا اثر پڑا اور مولوی صاحب نے بڑی صفائی سے اس بات کا ثبوت دے دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام درحقیقت اس عالم سے رحلت فرما ہوگئے ہیں اور ان کے زندہ ہونے کا خیال عبث اور باطل اور سراسر مخالف نصوص بیّنہ قرآن کریم و احادیث صحیحہ ہے اور ان کے نزول کی امید رکھنا طمع خام ہے اور یہ بھی فرمایا کہ اگرچہ بہت سی حدیثوں میں نزول کی خبر دی گئی ہے مگر وہ نزول اور رنگ میں ہے یعنے تجوّز اور استعارہ کے طور پر نزول ہے نہ حقیقی نزول۔ کیونکہ حقیقی نزول تو نصوص صریحہ بیّنہ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ سے مخالف پڑا ہوا ہے۔ جس کی طرف قدم اٹھانا گویا خدا تعالیٰ کی خبر میں شک کرنا ہے مولوی صاحب کے وعظ کے بعد سیّد حامد شاہ صاحب سیالکوٹی نے ایک قصیدہ مدحیہ سنایا۔ اس تقریر کے بعد حضرت اقدس مرزا صاحب کی مختصر تقریر تھی جس میں علماء حال کی چند ان باتوں کا جواب دیا گیا جو اُن کے نزدیک بنیاد تکفیر ہیں اور اسی کے ساتھ اپنے مسیح موعود ہونے کا آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے ثبوت دیا گیا اور حاضرین کو اس پیشگوئی کے پورا ہو جانے سے اطلاع دی گئی جو پرچہ نور افشاں دہم مئی ۱۸۸۸ ؁ء میں شائع ہوئی تھی اور مختلف وقتوں میں حجت پوری کرنے کے لئے سمجھا دیا گیا کہ اس پیشگوئی کا پورا ہونا درحقیقت صداقت دعویٰ پر ایک نشان ہے کیونکہ یہ پیشگوئی محض اس لئے ظاہر کی گئی ہے کہ جن صاحبوں کو شک ہے کہ حضرت مرزا صاحب منجانب اللہ( نہیں) ہیں۔ ان کے لئے اس دعویٰ پر یہ ایک دلیل ہو جو