اور ؔ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ اس دین میں کوئی حرج کی بات نہیں رکھی گئی یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر مثلًاکسی تدبیر یا انتظام سے ایک کام جو دراصل جائز اور روا ہے سہل اور آسان ہوسکتا ہے تو وہی تدبیر اختیار کرلو کچھ مضائقہ نہیں۔ ان باتوں کا نام بدعت رکھنا ان اندھوں کا کام ہے جن کو نہ دین کی عقل دی گئی اور نہ دنیا کی۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں کسی دینی تعلیم کی مجلس پر تاریخ مقرر کرنے کیلئے ایک خاص باب منعقد کیا ہے جس کا یہ عنوان ہے من جعل لاھل العلم ایّامًا معلومۃ یعنے علم کے طالبوں کے افادہ کیلئے خاص دنوں کو مقرر کرنا بعض صحابہ کی سنت ہے۔ اس ثبوت کیلئے امام موصوف اپنی صحیح میں ابی وایل سے یہ روایت کرتے ہیں کان عبداللّٰہ یذکّر الناس فی کل خمیس یعنی عبداللہ نے اپنے وعظ کیلئے جمعرات کا دن مقرر کر رکھا تھا۔ اور جمعرات میں ہی اس کے وعظ پر لوگ حاضر ہوتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اللہ جلّ شانہٗ نے قرآن کریم میں تدبیر اور انتظام کیلئے ہمیں حکم فرمایا ہے اور ہمیں مامور کیا ہے کہ جو احسن تدبیر اور انتظام خدمت اسلام کیلئے ہم قرین مصلحت سمجھیں اور دشمن پر غالب ہونے کیلئے مفید خیال کریں وہی بجا لاویں جیسا کہ وہ عزّاسمہ‘ فرماتا ہے ۔3 ۱؂ ۔ یعنے دینی دشمنوں کیلئے ہر یک قسم کی طیاری جو کرسکتے ہو کرو اور اعلاء کلمہ اسلام کیلئے جو قوت لگا سکتے ہو لگاؤ۔ اب دیکھو کہ یہ آیت کریمہ کس قدر بلند آواز سے ہدایت فرما رہی ہے کہ جو تدبیریں خدمت اسلام کیلئے کارگر ہوں سب بجا لاؤ اور تمام قوت اپنے فکر کی اپنے بازو کی اپنی مالی طاقت کی اپنے حسن انتظام کی اپنی تدبیر شائستہ کی اس راہ میں خرچ کرو۔ تا تم فتح پاؤ۔ اب نادان اور اندھے اور دشمن دین مولوی اس صرف قوّت اور حکمت عملی کا نام بدعت رکھتے ہیں۔ اس وقت کے یہ لوگ عالم کہلاتے ہیں جن کو قرآن کریم کی ہی خبر نہیں۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔ اس آیت موصوفہ بالا پر غور کرنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ برطبق حدیث نبوی کہ انما الاعمال بالنیات کوئی احسن انتظام اسلام کی خدمت کیلئے سوچنا بدعت اور ضلالت میں داخل نہیں ہے جیسے جیسے بوجہ تبدل زمانہ کے اسلام کو نئی نئی صورتیں مشکلات کی پیش آتی ہیں یا نئے نئے طور پر ہم لوگوں پر مخالفوں کے حملے ہوتے ہیں ویسی ہی ہمیں نئی تدبیریں کرنی پڑتی ہیں پس اگرحالت موجودہ کے موافق ان حملوں کے روکنے کی کوئی تدبیر اور تدارک سوچیں تو وہ ایک تدبیر ہے بدعات سے اس کو کچھ تعلق نہیں اور ممکن ہے کہ بباعث انقلاب زمانہ کے ہمیں بعض ایسی نئی مشکلات پیش آجائیں جو ہمارے سید و مولیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس رنگ اور طرز کی مشکلات پیش نہ آئی ہوں مثلاً ہم اس وقت کی لڑائیوں میں پہلی طرز کو جو مسنون ہے اختیار نہیں کر سکتے کیونکہ اس زمانہ میں طریق جنگ و جدل بالکل بدل گیا ہے اور پہلے ہتھیار بیکار ہوگئے اور نئے ہتھیار لڑائیوں کے پیدا ہوئے اب اگر ان ہتھیاروں کو پکڑنا اور اٹھانا اور ان سے کام لینا ملوک اسلام بدعت سمجھیں اور میاں رحیم بخش جیسے مولوی کی بات پر کان دھر کے ان اسلحہ جدیدہ کا استعمال کرنا ضلالت اور معصیت خیال کریں اور یہ کہیں کہ یہ وہ طریق جنگ ہے کہ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا اور نہ صحابہ اور تابعین نے تو فرمائیے کہ بجز اس کے کہ ایک ذلت کے ساتھ اپنی ٹوٹی پھوٹی سلطنتوں سے الگ کئے جائیں اور دشمن فتح یاب ہو جائے کوئی اور بھی اس کا نتیجہ ہوگا۔ پس ایسے مقامات تدبیر اور انتظام میں خواہ وہ مشابہ جنگ و جدل ظاہری ہو یا باطنی۔ اور خواہ تلوار کی لڑائی ہو یا قلم کی۔ ہماری ہدایت پانے کیلئے یہ آیت کریمہ موصوفہ بالا