کافی ؔ ہے یعنے یہ کہ3 ۱؂ اللہ جلّ شانہٗ اس آیت میں ہمیں عام اختیار دیتا ہے کہ دشمن کے مقابل پر جو احسن تدبیر تمہیں معلوم ہو اور جو طرز تمہیں موثر اور بہتر دکھائی دے وہی طریق اختیار کرو پس اب ظاہر ہے کہ اس احسن انتظام کا نام بدعت اور معصیت رکھنا اور انصار دین کو جو دن رات اعلاء کلمہ اسلام کے فکر میں ہیں جن کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہحب الانصار من الایمان ان کو مردود ٹھہرانا نیک طینت انسانوں کا کام نہیں ہے بلکہ درحقیقت یہ ان لوگوں کا کام ہے جنکی روحانی صورتیں مسخ شدہ ہیں اور اگر یہ کہو کہ یہ حدیث کہ حب الانصار من الایمان۔ و بغض الانصار من النفاق یعنے انصار کی محبت ایمان کی نشانی اور انصار سے بغض رکھنا نفاق کی نشانی ہے یہ ان انصار کے حق میں ہے جو مدینہ کے رہنے والے تھے نہ عام اور تمام انصار۔ تو اس سے یہ لازم آئیگا کہ جو اس زمانہ کے بعد انصار رسول اللہ ہوں ان سے بغض رکھنا جائز ہے نہیں نہیں بلکہ یہ حدیث گو ایک خاص گروہ کیلئے فرمائی گئی مگر اپنے اندر عموم کا فائدہ رکھتی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں اکثر آیتیں خاص گروہ کیلئے نازل ہوئیں مگر ان کا مصداق عام قرار دیا گیا ہے غرض ایسے لوگ جو مولوی کہلاتے ہیں انصار دین کے دشمن اور یہودیوں کے قدموں پر چل رہے ہیں۔ مگر ہمارا یہ قول کلی نہیں ہے راستباز علماء اس سے باہر ہیں صرف خاص مولویوں کی نسبت یہ لکھا گیا ہے۔ ہر یک مسلمان کو دعا کرنا چاہیئے کہ خداتعالیٰ جلد اسلام کو ان خائن مولویوں کے وجود سے رہائی بخشے۔ کیونکہ اسلام پر اب ایک نازک وقت ہے اور یہ نادان دوست اسلام پر ٹھٹھا اور ہنسی کرانا چاہتے ہیں اور ایسی باتیں کرتے ہیں جو صریح ہریک شخص کے نور قلب کو خلاف صداقت نظر آتی ہیں۔ امام بخاری پر اللہ تعالیٰ رحمت کرے انہوں نے اس بارے میں بھی اپنی کتاب میں ایک باب باندھا ہے چنانچہ وہ اس باب میں لکھتے ہیں قال علی رضی اللّٰہ عنہ حدثوا الناس بما یعرفون أ تحبون ان یکذب اللّٰہ و رسولہ اور بخاری کے حاشیہ میں اس کی شرح میں لکھا ہے ای تکلموا الناس علی قدر عقولہم یعنی لوگوں سے اللہ اور رسولؐ کے فرمودہ کی وہ باتیں کرو جو ان کوسمجھ جائیں اور ان کو معقول دکھائی دیں خواہ نخواہ اللہ رسول کی تکذیب مت کراؤ۔ اب ظاہر ہے کہ جو مخالف اس بات کو سنے گا کہ مولوی صاحبوں نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ بجز تین مسجدوں یا ایک دو اور محل کے اور کسی طرف سفر جائز نہیں ایسا مخالف اسلام پر ہنسے گا اور شارع علیہ السلام کی تعلیم میں نقص نکالنے کیلئے اس کو موقع ملے گا اس کو یہ تو خبر نہیں ہوگی کہ کسی بخل کی بناء پر یہ صرف مولوی کی شرارت ہے یا اس کی بیوقوفی ہے وہ تو سیدھا ہمارے سید و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ آورہوگا جیسا کہ انہیں مولویوں کی ایسی ہی کئی مفسدانہ باتوں سے عیسائیوں کو بہت مدد پہنچ گئی مثلاً جب مولویوں نے اپنے منہ سے اقرار کیا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو نعوذ باللہ مردہ ہیں مگر حضرت عیسیٰ قیامت تک زندہ ہیں تو وہ لوگ اہل اسلام پر سوار ہوگئے اور ہزاروں سادہ لوحوں کو انہوں نے انہیں باتوں سے گمراہ کیا اور ان بے تمیزوں نے یہ نہیں سمجھا کہ انبیاء تو سب زندہ ہیں مردہ تو ان میں سے کوئی بھی نہیں۔ معراج کی رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی کی لاش نظر نہ آئی سب زندہ تھے۔ دیکھئے اللہ جلّ شانہٗ اپنے نبی کریمؐ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کی قرآن کریم میں خبر دیتا ہے اور فرماتا ہے33۲؂ اور خود