منؔ قال لا الہ الا اللّٰہ خالصًا من قلبہ او نفسہ اور مردود ٹھہرانے کی اپنے فتویٰ میں وجہ یہ ٹھہرائی کہ ایسا اشتہار کیوں شائع کیا اور لوگوں کو جلسہ پر بلانے کیلئے کیوں دعوت کی۔ اے ناخدا ترس ذرا آنکھ کھول اور پڑھ کہ اس اشتہار ۷ دسمبر ۱۸۹۲ ؁ء کا کیا مضمون ہے کیا اپنی جماعت کو طلب علم اور حل مشکلات دین اور ہمدردی اسلام اور برادرانہ ملاقات کیلئے بلایا ہے یا اس میں کسی اور میلہ تماشا اور راگ اور سرود کا ذکر ہے۔ اے اس زمانہ کے ننگ اسلام مولویو تم اللہ جلّ شانہٗ سے کیوں نہیں ڈرتے کیا ایک دن مرنا نہیں یا ہریک مواخذہ تم کو معاف ہے حق بات کو سن کر اور اللہ اور رسول کے فرمودہ کو دیکھ کر تمہیں یہ خیال تو نہیں آتا کہ اب اپنی ضد سے باز آجائیں بلکہ مقدمہ باز لوگوں کی طرح یہ خیال آتا ہے کہ آؤ کسی طرح باتوں کو بناکر اس کا رد چھاپیں تا لوگ نہ کہیں کہ ہمارے مولوی صاحب کو کچھ جواب نہ آیا۔ اس قدر دلیری اور بددیانتی اور یہ بخل اور بغض کس عمر کیلئے۔ آپ کو فتویٰ لکھنے کے وقت وہ حدیثیں یاد نہ رہیں جن میں علم دین کیلئے اور اپنے شبہات دور کرنے کیلئے اور اپنے دینی بھائی اور عزیزوں کو ملنے کیلئے سفر کرنے کو موجب ثواب کثیر و اجر عظیم قرار دیا ہے بلکہ زیارت صالحین کیلئے سفر کرنا قدیم سے سنت سلف صالح چلی آئی ہے اور ایک حدیث میں ہے کہ جب قیامت کے دن ایک شخص اپنی بد اعمالی کی وجہ سے سخت مواخذہ میں ہوگا تو اللہ جلّ شانُہٗ اس سے پوچھے گا کہ فلاں صالح آدمی کی ملاقات کیلئے کبھی تو گیا تھا۔ تو وہ کہے گا بالارادہ تو کبھی نہیں گیا مگر ایک دفعہ ایک راہ میں اس کی ملاقات ہوگئی تھی تب خدا تعالیٰ کہے گا کہ جا بہشت میں داخل ہو۔ میں نے اسی ملاقات کی وجہ سے تجھے بخش دیا۔ اب اے کوتہ نظر مولوی ذرہ نظر کر کہ یہ حدیث کس بات کی ترغیب دیتی ہے۔ اور اگر کسی کے دل میں یہ دھوکہ ہو کہ اس دینی جلسہ کیلئے ایک خاص تاریخ کیوں مقرر کی۔ ایسا فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ رضی اللہ عنہم سے کب ثابت ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بخاری اور مسلم کو دیکھو کہ اہل بادیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں مسائل کے دریافت کرنے کیلئے اپنی فرصت کے وقتوں میں آیا کرتے تھے اور بعض خاص خاص مہینوں میں ان کے گروہ فرصت پاکر حاضر خدمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوا کرتے تھے اور صحیح بخاری میں ابی جمرہ سے روایت ہے۔ قال ان وفد عبدالقیس اتوا النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قالوا اِنا نأتیک من شقۃ بعیدۃ و لا نستطیع ان نأتیک الّا فی شھر حرام۔ یعنے ایک گروہ قبیلہ عبدالقیس کے پیغام لانے والوں کا جو اپنی قوم کی طرف سے آئے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ ہم لوگ دور سے سفر کر کے آتے ہیں اور بجز حرام مہینوں کے ہم حاضر خدمت نہیں ہوسکتے اور ان کے قول کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رد نہیں کیا اور قبول کیا پس اس حدیث سے بھی یہ مسئلہ مستنبط ہوتا ہے کہ جو لوگ طلب علم یا دینی ملاقات کیلئے کسی اپنے مقتدا کی خدمت میں حاضر ہونا چاہیں وہ اپنی گنجائش فرصت کے لحاظ سے ایک تاریخ مقرر کر سکتے ہیں جس تاریخ میں وہ بآسانی اور بلا حرج حاضر ہو سکیں اور یہی صورت ۲۷ دسمبر کی تاریخ میں ملحوظ ہے کیونکہ وہ دن تعطیلوں کے ہوتے ہیں اور ملازمت پیشہ لوگ بہ سہولت ان دنوں میں آ سکتے ہیں۔