مسلماؔ نوں کو مختلف اغراض کیلئے سفر کرنے پڑتے ہیں کبھی سفر طلب علم ہی کیلئے ہوتا ہے اور کبھی سفر ایک رشتہ دار یا بھائی یا بہن یا بیوی کی ملاقات کیلئے یا مثلًا عورتوں کا سفر اپنے والدین کے ملنے کیلئے یا والدین کا اپنی لڑکیوں کی ملاقات کیلئے اور کبھی مرد اپنی شادی کیلئے اور کبھی تلاش معاش کے لئے اور کبھی پیغام رسانی کے طور پر اور کبھی زیارت صالحین کیلئے سفر کرتے ہیں جیسا کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے حضرت اویس قرنی کے ملنے کیلئے سفر کیا تھا اور کبھی سفر جہاد کیلئے بھی ہوتا ہے خواہ وہ جہاد تلوار سے ہو اور خواہ بطور مباحثہ کے اور کبھی سفر بہ نیت مباہلہ ہوتا ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور کبھی سفر اپنے مرشد کے ملنے کیلئے جیسا کہ ہمیشہ اولیاء کبار جن میں سے حضرت شیخ عبدالقادررضی اللہ عنہ اور حضرت بایزید بسطامی اور حضرت معین الدین چشتی اور حضرت مجدد الف ثانی بھی ہیں اکثر اس غرض سے بھی سفر کرتے رہے جن کے سفرنامے اکثر ان کے ہاتھ کے لکھے ہوئے اب تک پائے جاتے ہیں۔ اور کبھی سفر فتویٰ پوچھنے کیلئے بھی ہوتا ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ سے اس کا جواز بلکہ بعض صورتوں میں وجوب ثابت ہوتا ہے اور امام بخاری کے سفر طلب علم حدیث کیلئے مشہور ہیں شاید میاں رحیم بخش کو خبر نہیں ہو گی اور کبھی سفر عجائبات دنیا کے دیکھنے کیلئے بھی ہوتا ہے جس کی طرف آیت کریمہ 3 ۱؂ اشارہ فرما رہی ہے اور کبھی سفر صادقین کی صحبت میں رہنے کی غرض سے جس کی طرف آیت کریمہ 33 ۔ ۲؂ ہدایت فرماتی ہے اور کبھی سفر عیادت کیلئے بلکہ اتباع خیار کیلئے بھی ہوتا ہے اور کبھی بیمار یا بیماردار علاج کرانے کی غرض سے سفر کرتا ہے اور کبھی کسی مقدمہ عدالت یا تجارت وغیرہ کیلئے بھی سفر کیا جاتا ہے اور یہ تمام قسم سفر کی قرآن کریم اور احادیث نبویہ کے رو سے جائز ہیں بلکہ زیارت صالحین اور ملاقات اخوان اور طلب علم کے سفر کی نسبت احادیث صحیحہ میں بہت کچھ حث وترغیب پائی جاتی ہے اگر اس وقت وہ تمام حدیثیں لکھی جائیں تو ایک کتاب بنتی ہے۔ ایسے فتویٰ لکھانے والے اور لکھنے والے یہ خیال نہیں کرتے کہ ان کو بھی تو اکثر اس قسم کے سفر پیش آ جاتے ہیں۔ پس اگر بجز تین مسجدوں کے اور تمام سفر کرنے حرام ہیں تو چاہیئے کہ یہ لوگ اپنے تمام رشتے ناطے اور عزیز اقارب چھوڑ کر بیٹھ جائیں اور کبھی ان کی ملاقات یا ان کی غم خواری یا ان کی بیمار پرسی کے لئے بھی سفر نہ کریں۔ میں خیال نہیں کرتا کہ بجز ایسے آدمی کے جس کو تعصب اور جہالت نے اندھا کر دیا ہو وہ ان تمام سفروں کے جواز میں متامّل ہو سکے صحیح بخاری کا صفحہ ۱۶ کھول کر دیکھو کہ سفر طلب علم کیلئے کس قدر بشارت دی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ مَنْ سلک طریقًا یطلب بہ علمًا سھّل اللّٰہ لہ طریق الجنّۃ یعنے جو شخص طلب علم کیلئے سفر کرے اور کسی راہ پر چلے تو خدا تعالیٰ بہشت کی راہ اس پر آسان کر دیتا ہے۔ اب اے ظالم مولوی ذرا انصاف کر کہ تُو نے اپنے بھائی کا نام جو تیری طرح کلمہ گو اہل قبلہ اور اللہ رسول پر ایمان لاتا ہے مردود رکھا اور خدا تعالیٰ کی رحمت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے بکلی محروم قرار دیا اور اس صحیح حدیث بخاری کی بھی کچھ پروا نہ کی کہ اسعد النّاس بشفاعتی یوم القیامۃ