اورؔ بااین ہمہ اصل تعلیم قرآنی سے مخالف نہ ہوں بلکہ ان کی قوت اور شوکت ظاہر کرنے و الے ہوں*۔ اور کتاب کے آخر میں سو شعر لطیف بلیغ اور فصیح عربی میں نعت اور مدح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں بطور قصیدہ درج ہوں اور جس بحر میں وہ شعر ہونے چاہئیں وہ بحر بھی بطور قرعہ اندازی کے اسی جلسہ میں تجویز کیا جائے اور فریقین کو اس کام کیلئے چالیس دن کی مہلت دی جائے۔ اور چالیس دن کے بعد جلسہ عام میں فریقین اپنی اپنی تفسیر اور اپنے اپنے اشعار جو عربی میں ہوں گے سنادیں۔ پھر اگر یہ عاجز شیخ محمد حسین بٹالوی سے حقائق و معارف کے بیان کرنے اور عبارت عربی فصیح و بلیغ اور اشعار آبدار مدحیہ کے لکھنے میں قاصر اور کم درجہ پر رہا۔ یا یہ کہ شیخ محمد حسین اس عاجز سے برابر رہا تو اسی وقت یہ عاجز اپنی خطا کا اقرار کرے گا اور اپنی کتابیں جلا دے گا۔ اور شیخ محمد حسین کا حق ہوگا کہ اس وقت عاجز کے گلے میں رسہ ڈال کر یہ کہے کہ اے کذاب۔ اے دجال۔ اے مفتری۔ آج تیری رسوائی ظاہر ہوئی۔ اب کہاں ہے وہ جس کو تو کہتا تھا کہ میرا مددگار ہے۔ اب تیرا الہام کہاں ہے اور تیرے خوارق کدھر چھپ گئے۔ لیکن اگر یہ عاجز غالب ہوا تو پھر چاہیئے کہ میاں محمد حسین اسی مجلس میں کھڑے ہو کران الفاظ سے توبہ کرے کہ اے حاضرین آج میری رو سیاہی ایسی کھل گئی کہ جیسے آفتاب کے نکلنے سے دن کھل جاتا ہے اور اب ثابت ہوا کہ یہ شخص حق پر ہے اور میں ہی دجال تھا اور میں ہی کذاب تھا اور میں ہی کافر تھا اور میں ہی بے دین تھا اور اب میں توبہ کرتا ہوں۔ سب گواہ رہیں۔ بعد اس کے اسی مجلس میں اپنی کتابیں جلادے۔ اور ادنیٰ خادموں کی طرح پیچھے ہولے۔* صاحبو۔ یہ طریق فیصلہ ہے جو اس وقت میں نے ظاہر کیا ہے۔ میاں محمد حسین کو اس پر سخت اصرار ہے کہ یہ عاجز عربی علوم سے بالکل بے بہرہ اور کو دن اور نادان اور جاہل ہے** اور علم قرآن سے بالکل بے خبر ہے اور خدا تعالیٰ سے مدد پانے کے تو لائق ہی نہیں کیونکہ کذاب اور دجال ہے اور ساتھ اس کے ان کو اپنے کمال علم اور فضل کا بھی دعویٰ ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک حضرت مخدوم مولوی حکیم نور الدین صاحب جو اس عاجز کی نظر میں علامہ عصر اور جامع علوم ہیں۔ صرف ایک حکیم۔ اور اخویم مکرم مولوی سید محمد احسن صاحب جو گویا علم حدیث کے ایک پُتلے ہیں صرف ایک منشی ہیں۔ پھر باوجود ان کے اس دعویٰ کے اور میرے اس ناقص حال کے جس کو وہ بار بار شائع کرچکے ہیں۔ اس طریق فیصلہ میں کون سا اشتباہ باقی ہے۔ اور اگر وہ اس مقابلہ کے لائق نہیں۔ اور اپنی نسبت بھی جھوٹ بولاہے