اسؔ عاجز کا نام جاہل اور نادان اور ان پڑھ رکھا ہے اور ساتھ اس کے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ یہ عاجز دراصل ملہم اور محدث نہیں ہے بلکہ مفتری اور کذّ اب اور دجال ہے اور بقول ان کے اس عاجز کے رگ و ریشہ میں جھوٹ رچا ہوا ہے اور جب بعض نشان ان کو دکھلائے گئے تو ان کی نسبت ان کا یہ بیان ہے کہ کبھی جھوٹے مدعی کی بھی خدا تعالیٰ مدد کرتا ہے اور حالانکہ جانتا ہے کہ یہ میری مدد اس کذاب کے صدق دعویٰ کیلئے دلیل ٹھہر جائے گی تب بھی مدد کرتا ہے اور ایسے کذابوں کو توفیق دیتا ہے کہ وہ رمل کے ذریعہ سے یا جفر کے ذریعہ سے کوئی بات کہہ دیں اور وہ بات پوری ہو جائے۔ سو اس قسم کے نشانوں کو بٹالوی صاحب نے اپنے بیہودہ بیانات سے رد کر دیا ہے لیکن اس جگہ ایک اور معیار ہے جو ہم ذیل میں لکھتے ہیں : ایک روحانی نشان جس سے ثابت ہوگا کہ یہ عاجز صادق اور خدا تعالیٰ سے مؤید ہے یا نہیں۔ اور شیخ محمد حسین بٹالوی اس عاجز کو کاذب اور دجّال قرار دینے میں صادق ہے یا خود کاذب اور دجّال ہے عاقل سمجھ سکتے ہیں کہ منجملہ نشانوں کے حقائق اور معارف اور لطائف حکمیہ کے بھی نشان ہوتے ہیں۔ جو خاص ان کو دئیے جاتے ہیں جو پاک نفس ہوں اور جن پر فضل عظیم ہو جیسا کہ آیت 3 ۱؂ اور آیت 33 ۲؂ بلند آواز سے شہادت دے رہی ہے۔ سو یہی نشان میاں محمد حسین کے مقابل پر میرے صدق اور کذب کے جانچنے کیلئے کھلی کھلی نشانی ہوگی اور اس فیصلہ کیلئے احسن انتظام اس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک مختصر جلسہ ہو کر منصفان تجویز کردہ اس جلسہ کے چند سورتیں قرآن کریم کی جن کی عبارت اسی آیت سے کم نہ ہو تفسیر کیلئے منتخب کر کے پیش کریں۔ اور پھر بطور قرعہ اندازی کے ایک سورہ ان میں سے نکال کر اسی کی تفسیر معیار امتحان ٹھہرائی جائے اور اس تفسیر کیلئے یہ امر لازمی ٹھہرایا جاوے کہ بلیغ فصیح زبان عربی اور مقفّّٰیعبارت میں قلمبند ہو اور دس جزو سے کم نہ ہو۔ اور جس قدر اس میں حقائق اور معارف لکھے جائیں وہ نقل عبارت کی طرح نہ ہو بلکہ معارف جدیدہ اور لطائف غریبہ ہوں۔ جو کسی دوسری کتاب میں نہ پائے جائیں۔