اورؔ میری نسبت بھی اور میرے معظم اور مکرم دوستوں کی نسبت بھی تو پھر ایسا شخص کسی قدر سزا کے لائق ہے کہ کذاب اور دجال تو آپ ہو۔ اور دوسروں کو خواہ نخواہ دروغ گو کر کے مشتہر کرے۔ اور یہ بات بھی یاد رہے کہ یہ عاجز درحقیقت نہایت ضعیف اور ہیچ ہے۔ گویا کچھ بھی نہیں۔ لیکن خداتعالیٰ نے چاہا ہے کہ متکبر کا سر توڑے اور اس کو دکھاوے کہ آسمانی مدد اس کا نام ہے۔ چند ماہ کا عرصہ ہوا ہے جس کی تاریخ مجھے یاد نہیں کہ ایک مضمون میں نے میاں محمد حسین کا دیکھا۔ جس میں میری نسبت لکھا ہوا تھا کہ یہ شخص کذاب اور دجال اور بے ایمان اور باایں ہمہ سخت نادان اور جاہل اور علوم دینیہ سے بیخبر ہے۔ تب میں جناب الٰہی میں رویا کہ میری مدد کر تو اس دعا کے بعد الہام ہوا کہ ادعونی استجب لکم یعنے دعا کرو کہ میں قبول کروں گا مگر میں بالطبع نافرتھا کہ کسی کے عذاب کیلئے دعا کروں آج جو ۲۹ شعبان ۱۳۱۰ ھ ہے اس مضمون کے لکھنے کے وقت خداتعالیٰ نے دعا کیلئے دل کھول دیا۔ سو میں نے اس وقت اسی طرح سے رقت دل سے اس مقابلہ میں فتح پانے کیلئے دعا کی اور میرا دلُ کھل گیا اور میں جانتا ہوں کہ قبول ہوگئی۔ اور میں جانتا ہوں کہ وہ الہام جو مجھ کو میاں بٹالوی کی نسبت ہوا تھا کہ انّی مھین من اراد اھانتک وہ اسی موقع کیلئے ہوا تھا۔ میں نے اس مقابلہ کیلئے چالیس دن کا عرصہ ٹھہرا کر دعا کی ہے اور وہی عرصہ میری زبان پر جاری ہوا۔ اب صاحبو اگر میں اس نشان میں جھوٹا نکلا یا میدان سے بھاگ گیا۔ یا کچے بہانوں سے ٹال دیا تو تم سارے گواہ رہو کہ بیشک میں کذاب اور دجال ہوں۔ تب میں ہر یک سزا کے لائق ٹھہروں گا۔ کیونکہ اس موقعہ پر ہر یک پہلو سے میرا کذب ثابت ہو جائے گا اور دعا کا نامنظور ہونا کھل کر میرے الہام کا باطل ہونا بھی ہر یک پر ہویدا ہو جائے گا۔ لیکن اگر میاں بٹالوی مغلوب ہوگئے تو ان کی ذلت اور رو سیاہی اور جہالت اور نادانی روز روشن کی طرح ظاہر ہو جائے گی۔ اب اگر وہ اس کھلے کھلے فیصلہ کو منظور نہ کریں اور بھاگ جائیں اور خطا کا اقرار بھی نہ کریں تو یقیناً سمجھو کہ ان کیلئے خداتعالیٰ کی عدالت سے مندرجہ ذیل انعام ہے :
(۱) ***
(۲) ***
(۳) ***
(۴) ***
(۵) ***
(۶) ***
(۷) ***
(۸) ***
(۹) ***
(۱۰)* ***