خون ؔ بھی کئے اور مال بھی لوٹے تو وہ کیونکر نبی صادق ٹھہر سکتا ہے تو ایسے جاہل کا یہی جواب ہوگا کہ اپنے ان کامل نوروں کی وجہ سے جو بجز راستباز کے کسی کو نہیں مل سکتے۔ عقلمند انسان ان نوروں کی چمک دیکھ کر ان امور کی صحیح تاویل آپ اپنی عقل خداداد سے سمجھ لے گا۔ اور جاہل اعتراضوں پر جمے گا۔ اور سیدھا جہنم کی طرف جائے گا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ تمام حقوق پر خدا تعالیٰ کا حق غالب ہے اور ہر ایک جسم اور روح اور مال اسی کی ملک ہے۔ پھر جب انسان نافرمان ہو جاتا ہے تو اس کی ملک اصل مالک کی طرف عود کرتی ہے۔ پھر اس مالک حقیقی کو اختیار ہوتا ہے کہ چاہے تو بلا توسط رسل نافرمانوں کے مالوں کو تلف کرے اور ان کی جانوں کو معرض عدم میں پہنچاوے۔ اور یا کسی رسول کے واسطہ سے یہ تجلی قہری نازل فرماوے۔ بات ایک ہی ہے۔ اسی طرح خضر کے کاموں کی مانند ہزاروں امور ہوتے ہیں جو انبیاء اور محدثین پر ان کی خوبی ظاہر کی جاتی ہے اور وہ ان کاموں کیلئے مامور کئے جاتے ہیں اور ان کے کاموں میں جو لوگ عجلت سے مخالفانہ دخل دیتے ہیں۔ وہی ہیں جو ہلاک ہوتے ہیں۔
قولہ۔ اس عاجز کی باون سال کی عمر پر پہنچ کر فوت ہونے کی پیشگوئی آپ نے کی ہے یانہیں۔
اقول۔ میں نے آپ کی نسبت یہ پیشگوئی ہرگز نہیں کی۔ اگر کسی نے میری طرف سے کہا ہے تو اس نے جھوٹ بولا ہوگا۔ اور آپ کی سراسر یہ بددیانتی اور خیانت ہے کہ بغیر اس کے جو مجھ سے دریافت کرتے یا میری کسی تحریر میں پاتے۔ ناحق بے وجہ یہ الزام میرے پر لگا دیا۔
قولہ۔ بعض مرید آپ کے شراب پیتے ہیں۔ اور کیا آپ کے بڑے معاون اور مرید نے آپ کے مکان پر شراب نہیں پی۔
اقول۔ *** اللّٰہ علی الکاذبین اب ثابت کرو کہ کس نے میرے مکان پر شراب پی۔ اور میرے بیعت کنندوں میں سے کون شراب پیتا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ لوگ بیعت کے بعد معاً ایک پاک تبدیلی اپنے چال چلن میں دکھلاتے ہیں۔ وہ نماز کے پابند ہوتے ہیں اور منہیات سے پرہیز کرتے ہیں اور دین کو دنیا پر مقدم رکھ لیتے ہیں۔ اور صادق پرہیزگاروں کو اس بات کی کچھ بھی حاجت نہیں کہ کوئی ان کو نیک کہے۔ خدا تعالیٰ دلوں کو دیکھ رہا ہے اور اس کا دیکھنا کافی ہے۔
اب میں اپنے و عدہ کے موافق ایک ایسا معیار ذیل میں ظاہر کرنا چاہتا ہوں جس سے بخوبی کھل
جائے کہ یہ عاجز موید من اللہ ہے اور حضرت بٹالوی صاحب اول درجہ کے کاذب اور دجال اور رئیس المتکبرین ہیں اور وہ تقریر یہ ہے کہ حضرت بٹالوی صاحب کی متواتر تحریروں سے ناظرین کو معلوم ہے کہ انہوں نے