غرؔ ض اے بھائیو! اس زمانہ میں وہ زہرناک ہوا اندرونی اور بیرونی طور پر پھیلی ہوئی ہے کہ جس کا استیصال انسان کے اختیار میں نہیں بلکہ اس خدائے حیّ و قیّوم قادر مطلق کے اختیار میں ہے جو موسموں کو بدلتا اور و قتوں کو پھیرتا اور خشک سالی کے بعد باران رحمت نازل کرتا ہے۔ اور جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ گرمی کی شدّ ت آخر بارش کو کھینچ لاتی ہے اس طرح پر کہ جب گرمی کمال کو پہنچتی ہے اور اس درجہ کے قریب اپنا قدم رکھنے لگتی ہے کہ جس سے قریب ہے کہ بنی آدم ہلاک ہوجائیں تب اس صانع قدیم کی حکمت کاملہ سے اس گرمی کا ایک تیز اثر سمندروں میں پڑتا ہے اور بوجہ شدّ ت اُس گرمی کے سمندروں میں سے بخارات اٹھتے ہیں تب سمندروں کی ہوا جو کہ سرد اور بھاری اور امساک کی قوت اپنے اندر رکھتی ہے ان بخارات کو اپنے میں جذب کر کے ایک حاملہ عورت کی طرح ان سے بھر جاتی ہے اور قرب و جوار کی ہوائیں قدرتی طور پر متحرک ہوکر اس کو دھکیلتی اور حرکت میں لاتی ہیں اور خود واسطہ بن کر اس بات کیلئے موجب ٹھہرتی ہیں کہ تا وہ ہوا بادلوں کی صورت میں ہو کر اپنے تئیں طبعاً اسی زمین کی طرف لاوے جہاں کی ہوا اس کی نسبت زیادہ گرم اور لطیف اور کم وزن اور کم مزاحم ہو۔ تب اُسی قدر کے موافق بارش ہوتی ہے کہ جس قدر گرمی ہوتی ہے۔ یہی صورت اُس روحانی بارش کی بھی ہے جو ظاہری بارش کی طرح قدیم سے اپنے موسموں پر برستی چلی آئی ہے یعنی اس طرح پر کہ خشک سالی کے ایام میں جب کہ خشک سالی اپنے کمال اور انتہا کو پہنچ جاتی ہے یکدفعہ مستعددلوں کی گرمی اور طلب اور خواہش کی حرارت نہایت جوش میں آجاتی ہے تب وہ گرمی رحمت کے دریا تک جو ایک سمندر ناپیدا کنار ہے اپنے التہاب اور سوز کو پہنچا دیتی ہے۔ تب دریائے رحمت اس کے تدارک کیلئے توجہ فرماتا ہے اور فیض بے علّت کے نورانی بخارات نکلنے شروع ہوجاتے ہیں تب وہ مقرب فرشتے جو اپنے نفس کی جنبش اور جوش سے سرد پڑے ہوئے اور نہایت لطیف اور یَفْعَلُوْن