مَاؔ یُؤْمَرُوْنَ کا مصداق ہیں ان فیوض کو قبول کر لیتے ہیں پھر ان فرشتوں سے تعلق رکھنے والی طبیعتیں جو انبیاء اور رسل اور محدثین ہیں اپنے حقانی جوشوں سے ان کو حرکت میں لاتے ہیں اور خود واسطہ بن کر ایسے محل مناسب پر برسا دیتے ہیں جو استعداد اور طلب کی گرمی اپنے اندر رکھتا ہے یہ صورت ہمیشہ اس عالم میں بوقت ضرورت ہوتی ہی رہتی ہے ہاں اس بھاری برسات کے بعد جو عہد مقدس نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہوچکی ہے بڑی بڑی بارشوں کی ضرورت نہیں رہی۔ اور وہ مُصفّا پانی اب تک ضائع بھی نہیں ہوا مگر چھوٹی چھوٹی بارشوں کی ضرورت ہے تا زمین کی عام سرسبزی میں فرق نہ آجائے سو جس وقت خدا وند حکیم و قدیر دیکھتا ہے کہ زمین پر خشکی غالب آگئی ہے اور اس کے باغ کے پودے مرجھائے جاتے ہیں تب ضرور بارش کا سامان پیدا کردیتا ہے یہ قدیم قانون قدرت ہے جس میں تم فرق نہیں پاؤ گے۔ اسی کے موافق ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ ان دنوں میں بھی اپنے عاجز بندوں پر رحم فرماتا۔ زمانہ کی حالت کو دیکھو اور آپ ہی ایمانًا گواہی دو۔ کیا یہ وقت وہی وقت نہیں ہے جس میں الٰہی مددوں کی دین اسلام کو ضرورت ہے۔ اس زمانہ میں جو کچھ دین اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی گئی اور جس قدر شریعت ربّانی پر حملے ہوئے اور جس طور سے ارتداد اور الحاد کا دروازہ کھلا کیا اس کی نظیر کسی دوسرے زمانہ میں بھی مل سکتی ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ تھوڑے ہی عرصہ میں اس ملک ہند میں ایک لاکھ کے قریب لوگوں نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا۔ اور چھ۶ کروڑ اور کسی قدر زیادہ اسلام کے مخالف کتابیں تالیف ہوئیں اور بڑے بڑے شریف خاندانوں کے لوگ اپنے پاک مذہب کو کھو بیٹھے یہاں تک کہ وہ جو آل رسول کہلاتے تھے وہ عیسائیت کا جامہ پہن کر دشمن رسول بن گئے اور اس قدر بدگوئی اور اہانت اور