ہوتاؔ ہے جس میں وہ اپنی ساری عمر کو کھودیتے ہیں اور اس بات میں وہ بڑے لاچار اور عاجز پائے گئے ہیں کہ اپنی کسی عادت کو جو خلاف شرع شریف بلکہ مخالف انسانیت ہے بدل سکیں۔
کئی لوگ فقیری کے بھیس میں ایسے پھرتے ہیں کہ جنہوں نے اپنے خراب ارادوں کی تحریک سے عمداً اسلام کی پاکیزہ راہوں کو چھوڑ دیا ہے اور اس قدر نہایت ذلیل اور قابل شرم کاموں میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ مجھے شک ہے کہ شیطان باوجود بہت سی اپنی بدنامیوں کے ان کے برابر ہے یا نہیں۔
لیکن درحقیقت یہ تمام گناہ علماء کی گردن پر ہے جو بے ہودہ جھگڑوں میں اپنے وقتوں کو کھوتے ہیں اور خلق اللہ کی سچی ہمدردی کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ کیا وہ یہودیوں سے اپنی ظاہر پرستی اپنی دنیا داری اپنی ریاکاری اپنی ہوس بازی اپنی فتنہ پردازی اپنی سخن سازی میں کچھ کم ہیں؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ سب صفات ان میں کچھ بڑھ کر ہیں جن کو وہ نہایت ہوشیاری کے ساتھ غیروں سے چھپاتے ہیں۔ وہ راستی سے نفرت اور ناراستی سے محبت رکھتے ہیں اور نہ صرف یہی بلکہ چاہتے ہیں کہ اوروں کو بھی اسی گڑھے میں دھکیل دیں جس میں وہ آپ گرے ہوئے ہیں۔ وہ فطرتی بدبختی کی وجہ سے مذہب کی بیرونی صورت اور شریعت کی ادنیٰ جزئیات میں الجھے ہوئے ہیں اور اسلام کے حقائق عالیہ اور معارف دقیقہ کو چھونا نہیں چاہتے اور نہ ان اسرار اور نکات سے کچھ مناسبت رکھتے ہیں۔ جیسے ہوا ایک چشمہ کے مجرا میں بھری ہوئی ہوتی ہے اور اس کے لمحہ بہ لمحہ اوپر کو چڑھنے سے وہ چشمہ اچھلتا ہے ایسا ہی ان کے چشمہ فطرت کا حال ہے کہ تعصب کی ہواؤں اور بخارات سے ان کا وہ گندہ چشمہ آج کل بڑے جوش کے ساتھ ظاہر ہورہا ہے جس کو وہ مدت سے مخفی طور پر رکھتے تھے۔ ربّ ارحم ربّ ارحم۔