ہیںؔ پر کرتے نہیں اور دکھلاتے ہیں پر خود چلتے نہیں اس لئے خدا تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہریں لگادیں اور ان کے فہم اور سمجھ کو موٹا کردیا۔ کیونکہ یہ سنت اللہ ہے کہ جب تک کوئی باریک احتیاط کے ساتھ اعمال صالحہ بجا نہ لاوے تب تک باریک بھید اس کے دل کو عطا نہیں کئے جاتے۔ یہ تو حال علماء کا ہے مگر افسوس کہ ہمارے فقراء کا حال اس سے بدتر معلوم ہوتا ہے اِلاَّ مَاشَآءَ اللّٰہ ہماری قوم میں اکثر ایسے ہی فقیر نظر آتے ہیں جنہوں نے اسلام پر یہ داغ لگایا کہ ہزارہا ایسی بدعتیں ایجاد کردیں کہ جن کا شرع شریف میں کوئی اصل صحیح نہیں پایا جاتا وہ ایسی بے ہودہ رسوم اور خیالات میں گرفتار ہیں کہ جن کے لکھنے سے بھی شرم آتی ہے بعض تو ہندوؤں کے جوگیوں کی طرح اور قریب قریب ان کی ایک خاص طور کی وضع اور پوشاک میں عمر بسر کرتے ہیں۔ اور نہایت بے جا اور وحشیانہ ریاضتوں میں جو مسنون طریقوں سے کوسوں دور ہیں اپنی عمر کو ضائع کررہے ہیں۔ ان کے چہروں کو دیکھنے سے ایسے آثار قہر الٰہی معلوم ہوتے ہیں اور ایسی مقہور شکل دکھائی دیتی ہے کہ شاید عالم سفلی میں اس سے زیادہ بدبختی پر دلالت کرنے والی اور کوئی شکل نہ ہو۔ اکثر فقراء میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جن کو وہ اپنے دلوں میں ایک کمال خیال کرتے ہیں اور اس بات کی دلیل ٹھہراتے ہیں کہ گویا انہوں نے ایک بہت سا حصہ سلوک کا طے کر لیا ہے مگر دراصل وہ باتیں صرف جاہلانہ خیالات اور وحشیانہ حرکات ہیں اور سچے معارف سے ایسی دور ہیں کہ جیسے ایک تیز دھوپ کے وقت بادل دنیا سے دور ہوتا ہے۔ یہ لوگ دینی خدمت کچھ بھی بجا نہیں لاسکتے اور سستی اور تضیع اوقات اور بے قیدی اور آرام طلبی اور مردہ طبعی اور لاف زنی کی زندگی کا ایک قوی اثر ان پر معلوم