قویٰؔ کا کام ہے ؟ بلکہ وہ خدا جو اپنے قدرتی تصرفات سے دریاؤں کو خشکی اور خشکی کو دریا کے نیچے لاسکتا ہے اسی کا یہ کام ہے کہ اس برّو بحر کے فساد کی اصلاح کرے۔ بھائیو یقیناً سمجھو کہ اب مسلمانوں کی اس سے زیادہ نازک حالت ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں یہودیوں کی حالت تھی۔ اور اسلام کے گرد ایسی مشکلات کا سلسلہ محیط ہورہا ہے کہ جیسے کسی ولایت کے گرد بڑے بڑے پہاڑ محیط ہوں۔ یہ بات کہ کامیابی کی راہیں کس قدر دشوار گذار ہوگئی ہیں اور کیا کچھ پیچ در پیچ دقتیں ایک دائرہ کی طرح اسلام پر احاطہ کررہی ہیں اس کا سمجھنا کسی ایسے دانشمند پر مشکل نہیں جس کی نظر زمانہ کی موجودہ خرابیوں پر پھر گئی ہو۔ مگر افسوس کہ ہمارے اکثر علماء جن کی نادانی اور جہل رحم کے قابل ہے وہ بالکل اس طوفان بے تمیزی سے بے خبر ہیں۔ اور زیادہ تر افسوس مجھے اس وقت ہوتا ہے کہ جب میں دیکھتا ہوں کہ باوجود اس لاپرواہی اور بے خبری اور سرد مہری کے جو اسلام کی نسبت یہ فرقہ رکھتا ہے ان کے سچے تقویٰ اور راست بازی میں بھی بہت ہی فرق آگیا ہے اور نیک ظنی اور متانت اور استقامت اور بلند ہمتی اور وسعت اخلاقی اور ہمدردی اسلام و مسلمین و بنی نوع گویا ان کے دلوں سے بکلی اٹھ گئی ہے اور فضائل حمیدہ عفو و احسان و اخلاص و مصالحت گویا ان کے صحن سینہ سے محو ہوگئے ہیں۔ اکثر تو ایسے ہیں کہ جن کی طبیعتوں پر شرانگیزی کے ہزاروں دروازے کھلے ہیں مگر شر سے باہر نکلنے اور صلح جوئی کا ایک بھی نہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ کمال تکبر اور کثرت غفلت کی وجہ سے ان کی روحانیت نہایت کمزور ہوگئی ہے۔ دنیا کی طرف اور اس کی جاہ و نمود کی طرف انہیں ایک کشش ہورہی ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے قبض ہے۔ اس کا یہی سبب ہے کہ وہ اس وحی کے منشاء سے دور جا پڑے ہیں کہ جو دلوں کو صاف کرنے والی اور اندرونی غلاظتوں کو دھونے والی ہے۔ وہ کہتے