مگر ؔ یہ لوگ نہیں سوچتے کہ خدا تعالیٰ نے اس وعدہ کے پورا ہونے کی بھی تو خبر دیدی جب کہ خود حضرت مسیح کی زبان سے 33 ۱ کاذکر بیان فرما دیا۔ ماسوا اس کے یہ بھی سوچنے کے لائق ہے کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ کہ میں ایسا کرنے کو ہوں خود یہ الفاظ دلالت کرتے ہیں کہ وہ وعدہ جلد پورا ہونے والا ہے اور اس میں کچھ توقف نہیں نہ یہ کہ رفع کا وعدہ تو اسی وقت پورا ہوجائے لیکن وفات دینے کاوعدہ ابھی تک جو دو ہزار برس کے قریب گذر گئے پورا ہونے میں نہ آوے۔
اے ناظرین! اس وقت بیانات مذکورہ بالا سے میرا یہ مطلب نہیں کہ میں زمانہ حال کے علماء کی غلطیاں لوگوں پر ظاہر کروں۔ کیونکہ جو کچھ ان کی بدفہمی اور بد اندرونی اور بدگمانی اور بد زبانی کی حالت مجھ پر کھلی ہے وہ عنقریب انہیں کے سوالات کے جواب میں بیان کروں گا۔ اور اس مقدمہ میں مجھے صرف یہ ظاہر کرنا منظور ہے کہ ہمارے علماء نے اس نازک وقت کو جو اسلام پر وارد ہے شناخت نہیں کیا انہوں نے بجائے اس کے کہ اسلام کی مدد کرتے عیسائیوں کو ایسی مدد دی کہ خود اپنے ہی اقرار سے ایک حصہ ثبوت کا انہیں دے دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ ایک دلیل بلکہ بارہ مستحکم دلیلوں اور قرائن قطعیّہ سے ہم کو سمجھا دیا تھا کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام فوت ہوچکا اور آنے والا مسیح موعود اِسی امت میں سے ہے۔ لیکن زمانہ حال کے علماء نے ایک ذرہ اس طرف توجہ نہ کی اور بہت سی خرابیوں کو اسلام کیلئے قبول کر لیا اور بیرونی آفات کو اندرونی افتراآت سے قوت دے دی۔ انہیں زہر ناک ہواؤں کے چلنے کی وجہ سے دین اسلام ایک مسلسل اور غیر منقطع خطروں میں پڑا ہوا ہے اور اب کسی دانشمند کی عقل قبول نہیں کرسکتی کہ ان تمام خرابیوں کا دور کرنا انسانی
المائدۃ