ہوںؔ دیکھے۔ اور یاد رہے کہ آیت فلمّا توفّیتنی میں اسی وعدہ کے پورا ہونے کی طرف اشارہ ہے جو آیت 3 3 ۱؂ میں کیا گیا تھا اور تَوَفّی کے ان معنوں کے سمجھنے کیلئے جو مراد اور منشاء اللہجلّ شانہٗ کا ہے ضرور ہے کہ ان دونوں آیتوں وعدہ اور تحقق وعدہ کو یکجائی نظر سے دیکھا جائے مگر افسوس کہ ہمارے علماء کو ان تحقیقوں سے کچھ سروکار نہیں۔ یہی تَوَفّی کا لفظ جو قرآن کریم کے دو مقام میں حضرت مسیح کے بارے میں درج ہے ایسا ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی یہی لفظ قرآن کریم میں موجود ہے جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے 33۲؂ اگر ہمارے علماء اس جگہ بھی تَوَفِّیْ کے معنے یہی لیتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں تو ہمیں ان پر کچھ بھی افسوس نہ ہوتا مگر ان کی بے باکی اور گستاخی تو دیکھو کہ توفّی کا لفظ جہاں کہیں قرآن کریم میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے تو اس کے معنی وفات کے لیتے ہیں اور پھر جب وہی لفظ حضرت مسیح کے حق میں آتا ہے تو اس کے معنی زندہ اٹھائے جانے کے بیان کرتے ہیں اور کوئی ان میں سے نہیں دیکھتا کہ لفظ تو ایک ہی ہے اندھے کی طرح ایک دوسرے کی بات کو مانتے جاتے ہیں۔ جس لفظ کو خدا تعالیٰ نے پچیس۲۵ مرتبہ اپنی کتاب قرآن کریم میں بیان کر کے صاف طور پر کھول دیا کہ اس کے معنی روح کا قبض کرنا ہے نہ اور کچھ۔ اب تک یہ لوگ اس لفظ کے معنی مسیحؑ کے حق میں کچھ اور کے اور کر جاتے ہیں گویا تمام جہان کیلئے توفّی کے معنی تو قبض روح ہی ہیں۔ مگر حضرت ابن مریم کے لئے زندہ اٹھا لینا اس کے معنی ہیں اگر یہ طریقہ شرک کی تائید نہیں تو اور کیا ہے ایک طرف تو نالائق متعصب عیسائی ہمارے سیّد و مولیٰ اٰل عمران:۵۶ الرعد:۴۱