مسیحؔ ؑ اپنے خواص میں عام انسانوں کے خواص بلکہ تمام انبیاء کے خواص سے مستثنیٰ اور نرالا ہے۔ کیونکہ جبکہ ایک افضل البشر جو مسیح سے چھ سو برس پیچھے آیا تھوڑی سی عمر پاکر فوت ہوگیا اور تیرہ سو برس اس نبی کریمؐ کے فوت ہونے پر گذر بھی گئے مگر مسیح اب تک فوت ہونے میں نہیں آیا تو کیا اس سے یہی ثابت ہوا یا کچھ اور کہ مسیح کی حالت لوازم بشریّت سے بڑھی ہوئی ہے۔ پس حال کے علماء اگرچہ بظاہر صورتِ شرک سے بیزاری ظاہر کرتے ہیں مگر مشرکوں کو مدد دینے میں کوئی دقیقہ اُنہوں نے اٹھا نہیں رکھا۔ غضب کی بات ہے کہ اللہ جلّ شانہٗ تو اپنی پاک کلام میں حضرت مسیحؑ کی وفات ظاہر کرے اور یہ لوگ اب تک اس کو زندہ سمجھ کر ہزارہا اور بیشمار فتنے اسلام کیلئے برپا کردیں اور مسیح کو آسمان کا حیّوقیّوم اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو زمین کا مردہ ٹھہراویں حالانکہ مسیح کی گواہی قرآن کریم میں اس طرح پر لکھی ہے کہ33۔۱ یعنی میں ایک رسول کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد یعنی میرے مرنے کے بعد آئیگا اور نام اس کا احمدؐ ہوگا۔ پس اگر مسیح اب تک اس عالم جسمانی سے گذر نہیں گیا تو اس سے لازم آتا ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اب تک اس عالم میں تشریف فرما نہیں ہوئے کیونکہ نص اپنے کھلے کھلے الفاظ سے بتلارہی ہے کہ جب مسیح اس عالم جسمانی سے رخصت ہوجائے گا تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس عالم جسمانی میں تشریف لائیں گے۔ و جہ یہ کہ آیت میں آنے کے مقابل پر جانا بیان کیا گیا ہے اور ضرور ہے کہ آنا اور جانا دونوں ایک ہی رنگ کے ہوں۔ یعنی ایک اُس عالم کی طرف چلا گیا اور ایک اُس عالم کی طرف سے آیا۔ پھر دوسری گواہی حضرت مسیح کی انکی وفات کے بارے میں آیت فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ میں صریح صریح درج ہے جس کی آنکھیں
الصف: