کو ؔ صاف اور کھلے طور پر گالیاں دیتے ہیں اور مسیح کو آسمان کا اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زمین کا قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف یہ علماء اس نازک زمانہ میں ان کو مدد دے رہے ہیں اور عیسائیوں کے مشرکانہ خیالات کو تسلیم کر کے اور بھی ان کے دعوے کو فروغ دے رہے ہیں۔ کاش یہ لوگ ایک منٹ کیلئے اپنے تعصبوں سے خالی ہو کر ذرہ سوچتے کہ شرک کیا چیز ہے اور اس کی کیا حقیقت ہے اور اس کی مبادی اور مقدّمات کیا ہیں۔ تا ان پر جلد کھل جاتا کہ خدا تعالیٰ کی ذات یا صفات یا اقوال و افعال یا اس کے استحقاق معبودیت میں کسی دوسرے کو شریکانہ دخل دینا گو مساوی طور پر یا کچھ کم درجہ پر ہو یہی شرک ہے جو کبھی بخشا نہیں جائے گا۔ اور اس کے مقدمات جن سے یہ پیدا ہوتا ہے یہ ہیں کہ کسی بشر میں کوئی ایسی خصوصیت اس کی ذات یا صفات یا افعال کے متعلق قائم کردی جاوے جو اس کے بنی نوع میں ہرگز نہ پائی جائے نہ بطور ظلّ اور نہ بطور اصل۔ اب اگر ہم ایک خاص فرد انسان کیلئے یہ تجویز کر لیں کہ گویا وہ اپنی فطرت یا لوازم حیات میں تمام بنی نوع سے متفرد اور مستثنیٰ اور بشریت کے عام خواص سے کوئی ایسی زائد خصوصیت اپنے اندر رکھتا ہے جس میں کسی دوسرے کو کچھ حصہ نہیں تو ہم اس بے جا اعتقاد سے ایک تودہ شرک کا اسلام کی راہ میں رکھ دیں گے قرآن کریم کی صاف تعلیم یہ ہے کہ وہ خدا وند وحید و حمید جو بالذات توحید کو چاہتا ہے۔ اس نے اپنی مخلوق کو متشارک الصفات رکھا ہے اور بعض کو بعض کا مثیل اور شبیہہ قرار دیا ہے تا کسی فرد خاص کی کوئی خصوصیت جو ذات و افعال و اقول اور صفات کے متعلق ہے اس دھوکہ میں نہ ڈالے کہ وہ فرد خاص اپنے بنی نوع سے بڑھ کر ایک ایسی